صرف حکومت کوجہاد اور فتویٰ جاری کرنے کا اختیار: وزیر داخلہ پاکستان

اسلام آباد۔ پاکستان کے وزیر داخلہ احسان اقبال نے کہا کہ اسلامی ملک میں جہاد اور فتویٰ جاری کرنے کا اختیارصرف حکومت کو ہے اور کسی شہری کو دوسرے شہری کو قتل کرنے کیلئے فرمان جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

Oct 07, 2017 01:11 PM IST | Updated on: Oct 07, 2017 01:12 PM IST

اسلام آباد۔ پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ اسلامی ملک میں جہاد اور فتویٰ جاری کرنے کا اختیارصرف حکومت کو ہے اور کسی شہری کو دوسرے شہری کو قتل کرنے کیلئے فرمان جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اخبار ’دی نیوز انٹر نیشنل ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر نے کہا کہ دوسرے لوگوں کو ’غیر مسلم قرار دے کر‘سوشل میڈیا پر فتویٰ جاری کرنے والوں کے خلاف سائبر جرائم قانون کے تحت معاملہ درج کر کے مقدمہ چلایا جائے گا۔ انہوں نےکہا کہ علمائے کرام کو اس طرح کے فتووں کی مذمت کرنی چاہئے۔

مسٹراقبال نے کل قومی اسمبلی میں کہا کہ کسی بھی شخص کو مذہب کے نام پر سیاست کرنے کیلئے کسی کو غیر مسلم قراردینے اور فتویٰ جاری کرنے کا حق نہیں ہے۔ مذہبی جذبات پر سیاست کرنا سنگین خطرناک جرم ہے۔ انہوں نے کہا-’’کسی بھی سڑک چھاپ مولوی کو کسی کو غیر مسلم قرار دینے کا حق نہیں ہے۔ اس طرح کے فتویٰ سے افراتفری پھیل جائے گی‘‘۔انہوں نے مذہبی رہنماؤں سے سوشل میڈیا پر فتویٰ جاری کرنے والوں کی مذمت کرنے کی اپیل کی ہے۔ مسٹر اقبال نے کہا -’’ہمیں ایسی روایات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جو ملک کی داخلی سلامتی کیلئے خطرہ پیدا کرسکتی ہیں‘‘۔

صرف حکومت کوجہاد اور فتویٰ جاری کرنے کا اختیار: وزیر داخلہ پاکستان

جمعہ کے روز اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال: فوٹو کریڈٹ ڈان ڈاٹ کام۔

وزیر موصوف نے کہا کہ نہ تو کوئی بھی حب اللہ اور حب رسول کا فرنچائزی ہےاور نہ ہی فرمان جاری کرنے کا ٹھیکیدار ۔ انہوں نے کہا-’’ہمیں کسی سے حب اللہ اور حب رسول کی سند لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی بھی مولوی کو اس طرح کا فرمان جاری کرنے کا اختیار نہیں ‘‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز