پاکستان میں ہندو برادری کیلئے پہلا قانون متعارف ، ہندو میرج ایکٹ اتفاق رائے سے منظور

Feb 18, 2017 03:43 PM IST | Updated on: Feb 18, 2017 03:43 PM IST

اسلام آباد: سینیٹ میں ہندو میرج بل 2017 کی متقفہ طور پر منظوری کے ذریعے ملک میں ہندو کمیونٹی کیلئے پہلا قانون متعارف کردیا گیا ہے۔اس بل کو قانون کا حصہ بنانے کیلئے صدر مملکت کے دستخط کی ضرورت ہے جو آئندہ ہفتے تک متوقع ہیں، جس کے بعد اسے قانون کے طور پر نافذ کردیا جائے گا، اس سے قبل 26 ستمبر 2015 کو قومی اسمبلی نے اس بل کی منظوری دی تھی۔اس بل کے ذریعے ہندو خواتین کو شادی کا دستاویزی ثبوت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ ہندو برادری کیلئے ملک کا پہلا قانون ہے جو پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں قابل عمل ہوگا کیونکہ سندھ اسمبلی صوبے کیلئے پہلے ہی ہندو شادی کا قانون متعارف کراچکی ہے۔ وزیر قانون زاہد حامد کی جانب سے سینیٹ میں پیش کیے جانے والے بل پر کسی نے بھی اعتراض یا مخالفت نہیں کی، کیونکہ اس میں تمام سینیٹرز، تمام سیاسی جماعتوں کے قومی اسمبلی میں موجود اراکین اور متعلقہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو شامل کیا گیا تھا۔یہ بل سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے 2 جنوری کو بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا۔ لیکن جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر مفتی عبدالستار نے بل کی مخالفت کی تھی جن کا دعویٰ تھا کہ آئین اس قسم کے معاملات سے نمٹنے کیلئے کافی ہے۔

پاکستان میں ہندو برادری کیلئے پہلا قانون متعارف ، ہندو میرج ایکٹ اتفاق رائے سے منظور

بل کو منظور کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے تعلق رکھنے والی کمیٹی کی چیئرمین سینیٹر نسرین جلیل نے اعلان کیا تھا کہ’’یہ غیر منصفانہ عمل ہے ،ناصرف اسلامی تعلیمات کے خلاف بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ،کہ پاکستان میں موجود ہندو برادری کیلئے ہم کوئی ایک ذاتی خاندانی قانون متعارف نہیں کراسکتے ہیں‘‘۔ بل کی حمایت کرتے ہوئے سینیٹر اعتزاز احسن، سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدین اور سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا تھا یہ صرف پاکستان میں بسنے والے ہندووں کی شادی کے حوالے سے ہے اور اس کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔

ڈاکٹر رمیش کمار نے بل کی منظوری پر اراکین پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا، وہ گذشتہ 3 سال سے ملک میں ہندووں کی شادی کے قانون کو متعارف کرنے کیلئے کام کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 'اس طرح کا قانون زبردستی مذہب کی تبدیلی کی حوصلہ شکنی کرے گا اور ایک ہندو کی شادی کے بعد ہندو کمیونٹی کیلئے کارکر ثابت ہوگا ۔انھوں نے مزید کہا کہ اس بل کی منظوری سے قبل ایک ہندو عورت کیلئے دشوار تھا کہ وہ اپنے شادی شدہ ہونے کا کوئی ثبوت پیش کرسکے جو کہ مذہب کی جبراًتبدیلی کے معاملات پر اثر انداز ہورہا تھا۔یہ قانون ہندو برادری کی شادی کی دستاویز 'شادی پراتھ مسلمانوں کیلئے نکاح نامہ کی طرح کی دستاویز — ہے جس پر پنڈت کے دستخط ہوں گے اور حکومت پاکستان کا متعلقہ محکمہ اس کو رجسٹر کرے گا۔

تاہم، ہندو پارلیمنٹرینز اور کمیونٹی کے اراکین نے بل کی ایک شق پر اعتراض کا اظہار کیا ہے جو 'شادی کی منسوخی سے متعلق ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ اگر میاں یا بیوی میں سے کوئی ایک مذہب تبدیل کرلے تو وہ علیحدگی اختیار کرنے کیلئے عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔ ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ ’’ہم یہ چاہتے ہیں کہ علیحدگی کی وجہ مذہب کی تبدیلی سے قبل بتائی جائے کیونکہ اس کے ذریعے شرپسندوں کو ایک شادی شدہ خاتون کو اغوا اور اسے غیر قانونی حراست میں رکھنے کا موقع مل جائے گا اور جس کے بعد اسے عدالت میں ایک پٹیشن کے ساتھ پیش کردیا جائے گا کہ وہ مسلمان ہوگئی ہے اور ایک ہندو کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی‘‘۔

تاہم بل کو پاکستان میں موجود ہندووں کی جانب سے وسیع پیمانے پر پذیرائی ملی ہے کیونکہ یہ ہندوؤں کی شادی، شادی کے اندراج، علیحدگی اور دوبارہ شادی سے متعلق ہے جس میں لڑکا اور لڑکی، دونوں کی شادی کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز