نااہل شخص کے سیاسی جماعت کا سربراہ بننے کے خلاف قرارداد منظور

Oct 12, 2017 07:05 PM IST | Updated on: Oct 12, 2017 07:05 PM IST

اسلام آباد۔ پاکستان کی سینٹ میں حکومت کی مخالفت کے باوجود نااہل شخص کے پارٹی سربراہ بننے کیخلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔ دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق قرارداد کے حق میں 52 اور مخالفت میں 28ووٹ پڑے ۔ حزب اختلاف کے لیڈراعتزاز احسن نے قراداد پیش کی۔ قرارداد کے تعلق سے مسٹر احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک شخص کو نااہل قرار دیا ہے اور یہ ایوان اس معاملے کو حل کرے کہ اس طرح کا کوئی شخص کسی سیاسی جماعت کا سربراہ بننے کا اہل نہیں ہو سکتا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اس ایوان کو مسئلہ حل کرنا چاہئے کہ ایسا کوئی بھی شخص جو نااہل قرار دیا گیا ہو اور کسی پر دہشت گردی کی دفعات ہوں ایسے شخص کو پارلیمنٹ میں داخلہ کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک شخص جسے عدالت نے نااہل قرار دیا ہو اگر اسے کسی سیاسی پارٹی کا سربراہ بننے کی چھوٹ دے دی جائے تو وہ بطور سربراہ اپنے فیصلوں کے ذریعہ ایوان کی کاروائی کو متاثر کر سکتا ہے۔انہوں نے تعجب کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی شخص پارلیمنٹ میں داخل نہیں ہوسکتا ہے تو وہ کسی پارٹی کی قیادت کا اہل کیسے ہوسکتا ہے۔ ایوان کے لیڈر راجہ محمد ظفر الحق، وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے قرار داد کی مخالفت کی اور اس اقدام کوبے بنیاد قرار دیا۔

نااہل شخص کے سیاسی جماعت کا سربراہ بننے کے خلاف قرارداد منظور

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف: گیٹی امیجیز

وفاقی وزیر قانون مسٹرحامد نے کہا کہ قرارداد سے اپوزیشن کیا ثابت کرنا چاہتی ہے ، اب یہ مکمل قانون بن چکا ہے اور دونوں ایوانوں سے منظور بھی ہو چکا ہے، یہ جو قرارداد لائی گئی ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہ قرارداد منظور کر کے قانون کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ اس قانون کو جو خود اسی ایوان نے منظور کیا ہے۔ بدھ کو سینٹ کا اجلاس چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کی صدارت میں ہوا۔ ایوان کے لیڈرراجہ ظفر الحق نے کہا کہ اس ایوان

نے الیکشن بل 2017ءمیں سیاسی جماعتوں سے متعلق ایکٹ میں ترمیم کی اور اس ایوان نے شق 203کو کثرت رائے سے منظور کیا اور صدر پاکستان کے دستخط کے بعد اب یہ قانون بن چکا ہے، جب قانون بن چکا ہے تو اس پر قرارداد نہیں لائی جا سکتی۔

سپریم کورٹ میں بھی اسے چیلنج کیا گیا ہے جو ابھی تک موخر ہے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کو نیا پارٹی صدر منتخب کرنے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے تحت نااہل شخص پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز