پاکستان : زینب عصمت دری اور قتل واقعہ سے قوم کا سر شرم سے جھک گیا : چیف جسٹس ثاقب نثار

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں ایک چھ سالہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور اس کے بعدقتل کا ازخو دنوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ زینب قوم کی بیٹی تھی اور اس واقعے سے قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔

Jan 11, 2018 07:44 PM IST | Updated on: Jan 11, 2018 07:44 PM IST

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں ایک چھ سالہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور اس کے بعدقتل کا ازخو دنوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ زینب قوم کی بیٹی تھی اور اس واقعے سے قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔زینب کو شہر قصور میں 4 جنوری کو اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن جاتے ہوئے اغوا کرلیا گیا تھا۔بعدمیں اس کی لاش کوڑے کے ایک ڈھیر کے پاس سے برآمد ہوئی تھی۔ جب یہ واقعہ پیش آیا زینب کے والدین عمرہ ادا کرنے کے لئے مکہ مکرمہ گئے ہوئے تھے۔

اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل پولیس سے چوبیس گھنٹے کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ زینب معاملہ پر مشتعل لوگوں نے مظاہرہ کیا اور ایک تھانہ اور ایک سرکاری عمارت پر حملہ کردیا۔اس دوران پولیس کارروائی میں دو مظاہرین کی گولی لگنے سے موت ہوگئی اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔

پاکستان : زینب عصمت دری اور قتل واقعہ سے قوم کا سر شرم سے جھک گیا : چیف جسٹس ثاقب نثار

پاکستانی سپریم کورٹ : فائل فوٹو

ادھر صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے زینب قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 4 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ارکان نے زینب کے اہل خانہ سے رابطہ کرلیا ہے جبکہ قاتل کو جلد گرفتار کرکے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ زینب کے قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی نے فائرنگ کا حکم نہیں دیا تھا یہ ان اہلکاروں کا غیر ذمہ دارانہ فعل تھا۔

اس دوران زینب کے قتل کے خلاف سندھ اسمبلی میں مذمتی قراد داد پیش کردی گئی۔قرار داد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی)، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) پاکستان، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی ارکان کی جانب سے پیش کی گئی۔قرار داد میں زینب کے قتل کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ قاتل کو عبرت ناک سزا دی جائے۔دریں اثنا سینئر وکیل احمد رضا قصوری نے دعویٰ کیا ہے کہ زینب کے قاتل کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان نے انہیں بتایا ہے کہ زینب کا قاتل کوئی قریبی رشتے دار ہے۔

Loading...

ڈان نیوز کے مطابق مسٹر قصوری نے دعویٰ کیا کہ وہ آج جمعرات کو چیف جسٹس کے چیمبر میں گئے اور انہوں نے اس واقعے پر از خود نوٹس لینے پر شکریہ ادا کیا تو انہوں نے مجھے یہ خوش خبری دی کہ زینب کے قاتل کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے ملزم کے نام اور رشتے سے متعلق نہیں پتہ، تاہم میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ کوئی قریبی رشتے دار ہے۔دوسری طرف قصوری کے دعویٰ پر وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وہ اس بارے میں کوئی تصدیق یا تردید نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس جو اطلاعات ہیں اس کہ مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور 100 کے قریب لوگوں کے ڈی این اے کے نمونے لیے گئے ہیں۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث ملزم کو جلد گرفتار کرلیں گے اور اس کی گرفتاری سے ذرائع ابلاغ کو بھی آگاہ کریں گے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز