جنرل پرویز مشرف کو عدالت میں حاضر ہونے کیلئے جمعرات کو دو بجے تک کی مہلت

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق صدرریٹائر جنرل پرویز مشرف کو آج حکم دیا کہ وہ جمعرات کو دن میں دو بجے تک عدالت میں پیش ہو جائیں بصورت دیگر عدالت عظمیٰ قانون کے مطابق اپنا فیصلہ سنا دے گی۔

Jun 13, 2018 09:57 PM IST | Updated on: Jun 13, 2018 09:57 PM IST

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق صدرریٹائر جنرل پرویز مشرف کو آج حکم دیا کہ وہ جمعرات کو دن میں دو بجے تک عدالت میں پیش ہو جائیں بصورت دیگر عدالت عظمیٰ قانون کے مطابق اپنا فیصلہ سنا دے گی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سابق صدر کو یہ مہلت دیتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ ان کی واپسی کے لیے ان کی شرائط کی پابند نہیں ہے۔ یہ بات پہلے ہی کہہ دی گئی ہے کہ جنرل مشرف وطن واپس آئیں، انہیں تحفظ فراہم کیا جائےگا ۔ عدالت بہر حال لکھ کر ضمانت دینے کے پابند نہیں ۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے پرویز مشرف کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی۔ جنرل مشرف کے وکیل نے جب کہاکہ ان کے موکل بغاوت کے مقدمہ کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں ، لیکن جان کے تحفظ کی ضمانت دی جائے توچیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وہ سپریم کورٹ سے یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف بغاوت کی کارروائی نہ کی جائے؟

جنرل پرویز مشرف کو عدالت میں حاضر ہونے کیلئے جمعرات کو دو بجے تک کی مہلت

پرویز مشرف ۔ فائل فوٹو

جنرل مشرف کے وکیل نے کہا کہ سابق صدر کو رعشہ کی بیماری ہے ، میڈیکل بورڈ ہونا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف ایئر ایمبولینس میں آجائیں ہم میڈیکل بورڈ بنا دیتے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے سابق صدر کی درخواست پر سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پچھلے ہفتے 25 جولائی کے الیکشن میں مقابلے کے لئے جنرل مشرف کو نامزدگی کے کاغذات داخل کرنے کی اجازت دیدی تھی بشرطیکہ وہ 13 جون کو عدالت میں حاضر رہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ایک فیصلے کے بعد ریٹرننگ افسر نے 2013 کے عام انتخابات میں پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔ اس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز