ہندوستان کو دہشت گردی کا شکار قرار دینے پر پاکستان امریکہ سے نالاں

May 23, 2017 07:06 PM IST | Updated on: May 23, 2017 07:06 PM IST

اسلام آباد۔ پاکستان کو اس بات کا صدمہ ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کی اسلامی کانفرنس میں اقوام عالم پر یہ زور دیتے ہوئے کہ وہ اپنے یہاں دہشت گرد گروپوں کی عدم پناہ کو یقینی بنائیں پاکستان کا کوئی ذکر نہیں کیا البتہ ہندستان کوتو دہشت گردی کا شکار ملک قرار دے دیا۔ پاکستانی میڈیا نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے اسے توہین آمیز بتایا ہے اور کہا کہ کہ انہوں نے دہشت گردی کیخلاف اپنی تقریر میں پاکستان کا نام تک لینا گوارا نہیں کیا۔ پاکستانی قوم کو اس بات سے بھی سخت مایوسی ہوئی ہے کہ ایک طرف جہاں کئی چھوٹے ملکوں کو دہشت گردی کے خلاف اظہار خیال کا موقع دیا گیا وہیں دہشت گردی کے خلاف اپنے کردار کی ہر ممکن یقین دہانی کرنے والے ملک کے وزیر اعظم کو بولنے نہیں دیا گیا ۔ کانفرنس کی سائیڈ لائن پر بھی صدر ٹرمپ سے وزیراعظم نواز شریف کی کسی ملاقات کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا ۔

پاکستانی اخبار دی نیشن میں شائع ایک رپورٹ میں ا س پر ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔اخبار نے وزارت خارجہ کے ایک اعلی افسر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں پاکستان کا نام بھی لینا گوارہ نہ کیا جس سے دھچکا لگا ہے کیونکہ توقع تھی کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے قائدانہ کردار اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے حوالے سے اس کے عزم کو تسلیم کرے گا۔ اخبار کے مطابق پاکستان نے اس صورتحال کے حوالے سے امریکہ سے سفارتی ذرائع کے ذریعے رابطہ قائم کیا ہے۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر اعزاز احمد چودھری اوردوسرے سفارتکار امریکی سرد مہری کے اس معاملے کو واشنگٹن میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی تقریر نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو متاثر کیا ہے خاص کر میاں نواز شریف کے سامنے ہندستان کو دہشت گردی سے متاثر ملک ٹھہرانا کوئی اچھا پیغام نہیں تھا۔

ہندوستان کو دہشت گردی کا شکار قرار دینے پر پاکستان امریکہ سے نالاں

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف: گیٹی امیجیز

پاکستانی میڈیا نے الزام لگا یا ہے کہ امریکہ نے دہشت گردی کے معاملے میں اپنا جھکاو واضح طور پر ہندستان کی طرف دکھایا ہے ۔ اسی کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ کلبھوشن یادو کو گرفتارکر کے اور انہیں قصور وار ٹھہراکر پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے ہندستانی کردار کو ثابت کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی روزنامہ نوائے وقت کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نوازشریف نے ریاض کے لئے خصوصی پرواز میں تقریباً ڈھائی گھنٹے اپنے رفقا کے ساتھ اس تقریر کی تیاری میں گزارے جسے اسلامی کانفرنس میں پیش کر نے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ اخبار کے مطابق پاکستانی میڈیا وفد کی اکثریت کا اس پر تبصرہ تھا کہ یہ ایک نیوکلیائی ملک کے ساتھ ذلت آمیز رویہ تھا۔ اس حوالے سے ایک اور درد ناک پہلو یہ بتا یا گیا ہے کہ وہاں مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور نہ ہی کوئی دوسرا ذمہ دار فرد موجود تھا جو یہ بتا سکتا کہ سربراہی اجلاس کے موقع پرنواز شریف کو خطاب کا موقع کیوں نہیں دیا گیا جس کیلئے پچھلے ہفتہ سعودی وزیر خارجہ نےخود اسلام آباد آکر وزیراعظم کو دعوت دی تھی۔

اخبار کے مطابق کانفرنس میں ان رہنماوں کو تقریر کا موقع دیا گیا جنہوں نے دہشت گردی کا سامنا نہیں کیا دوسری طرف ٹرمپ نے ہندستان کو دہشت گردی کا شکار ملک قرار دیا اور اسرائیلی حکومت کی طرف سے مبینہ دہشت گردی کو نظرانداز کردیا۔ اخبار کے مطابق اس موقع پر شاہ سلمان کا رویہ بھی تکلیف دہ ہے حالانکہ سعودی عرب کی درخواست پر پاکستان کے سابق فوجی سربراہ راحیل شریف نے سعودی فوجی اتحاد کی کمان سنبھالی۔ بعض سفارتکاروں کے حوالے سے اخبار نے لکھا ہے کہ جب سے پاکستان نے یمن میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار کیا ہے ممکن ہے اس وقت سے سعودی حکمران ناراض ہوں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز