پاکستانی خاتون پروین اختر کا الزام : کینسر میں مبتلا بیٹی کے علاج کے لئے ہندوستان نے نہیں دیا ویزا

Jul 08, 2017 10:08 AM IST | Updated on: Jul 08, 2017 10:08 AM IST

اسلام آباد : پاکستان کی ایک خاتون نے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان نے کینسر میں مبتلا اس کی بیٹی کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کی 25 سالہ بیٹی کینسر میں مبتلا ہے اور وہ علاج کے لئے ہندوستان جانا چاہتی تھی ، لیکن ہندوستانی سفارت خانے نے دونوں ممالک کے بگڑتے رشتوں کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیکل ویزا دینے سے انکار کر دیا ۔

پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق غازی آباد میں واقع اندرپرستھ ڈینٹل کالج اینڈ ہوسپیٹل  میں پاکستان کی رہنے والی فائزہ تنویر کو علاج کرانا تھا ، اس اورل ٹیومر کینسر ہے ۔ استپال نے تنویر اور اس کی ماں پروین اختر کو ہندوستان میں علاج کے لئے بلایا تھا ، جس کے لئے انہوں نے 20 دن کے لئے طبی ویزا مانگا تھا ۔

پاکستانی خاتون پروین اختر کا الزام : کینسر میں مبتلا بیٹی کے علاج کے لئے ہندوستان نے نہیں دیا ویزا

اس کی ماں نے کہا کہ اس لوکل میڈیکل پروفیشنل نے بتایا تھا کہ جس جگہ کینسر ہے ، وہاں كيموتھیریپی کرنا مشکل ہے ۔ وہ کان ، ناكھ اور آنکھوں کے قریب ہے ۔ انہوں نے پاکستان کے جناح اسپتال میں بھی اس بارے میں بات کی تھی ، لیکن وہاں سے اس پروسیس میں تنویر کے آئی بال کو ہٹانے کی بات کہی گئی تھی ، جس کے لئے وہ تیار نہیں تھی ۔

اختر نے کہا کہ ہندوستان میں امریکہ اور سنگاپور کے مقابلہ میں علاج کرانا سستا ہے ۔ اسے دیکھتے ہوئے انہوں نے یہاں علاج کرانا چاہا ۔ اسپتال نے علاج کے لئے 20 ہزار ڈالر خرچ بتایا تھا ۔ تنویر کے خاندان والوں نے علاج کے لئے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے جمع کر لئے تھے ۔  انہوں نے اسپتال کو ایک کروڑ روپے پہلے ہی دے دیا تھا ۔

اختر نے کہا کہ ہندوستانی سفارت خانے نے مجھ سے کہا ہے کہ ایسی صورت میں اب بھی میڈیکل ویزا مل سکتا ہے ، اس کے لئے آپ پاکستان کے وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز سے ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج کو خط لكھونا ہوگا ۔ اس کے بعد ان کی اجازت پر ہی ویزا مل سکتا ہے ۔ اختر نے دونوں ممالک کے رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور میڈیکل ویزا دلائیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز