پاکستان نے امریکہ کے ساتھ دو طرفہ دورہ اور مذاکرات ملتوی کئے

Aug 29, 2017 08:25 PM IST | Updated on: Aug 29, 2017 08:25 PM IST

اسلام آباد۔  پاکستانی حکومت نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کے خلاف امریکہ کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکرات اور دو طرفہ دوروں کو ملتوی کردیا ہے۔ پاکستانی اخبار ڈان نے پاکستان کے وزیر خارجہ خواجه محمد آصف کے حوالے سے بتایا کہ مسٹر ٹرمپ کے افغانستان پالیسی کے اعلان کرنے کے دوران پاکستان کی تنقید کے خلاف امریکہ کے ساتھ بات چیت اور دو طرفہ دورے کو ملتوی کردیا گیا ہے۔ مسٹر آصف نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ مسٹر ٹرمپ کے بیان کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پاکستان نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اگست کو افغانستان، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم پاکستان کو اربوں ڈالر ادا کرتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان نے اُن ہی دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے‘۔

نئی امریکی پالیسی میں افغانستان میں ہندوستان کو اہم کردار دینے کا اشارہ بھی کیا گیا تھا جو پاکستان کے ان خدشات میں اضافے کا سبب بنا تھا کہ ہندوستان اس موقع کو استعمال کرکے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں مسائل پیدا کرے گا۔ اس حکمت عملی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کی جانب سے امریکی اور افغان فورسز پر ہونے والے مبینہ سرحد پار حملوں کو نہیں روکتا تو تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ مسٹر ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ اپنی حکومت کو دہشت گردی کو محفوظ پناہ گاہ ہونے کی اجازت نہ دے تو اسے سیکورٹی امداد میں کمی کی جاسکتی ہے۔

پاکستان نے امریکہ کے ساتھ دو طرفہ دورہ اور مذاکرات ملتوی کئے

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجه محمد آصف: فائل فوٹو۔

جنوبی اور وسطی ایشیا کے امور کے امریکی سکریٹری خارجہ ایلیس ویلز کو طے پروگرام کے مطابق آج پاکستان آنا تھا جبکہ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے گذشتہ ہفتے ہونے والے امریکی دورے کو بھی ملتوی کر دیا گیا تھا۔ پاکستان کی خارجہ سکریٹری تهمينہ جنجوعہ نے بتایا کہ پانچ ستمبر سے شروع ہونے والی تمام سفیروں کے تین روزہ اجلاس اپنے طے وقت پر ہی ہوں گے۔ سفیروں سے گفتگو کرکے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن کے قریب ایک فوجی ٹھکانے سے اپنے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں امریکی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا۔ اس حکمت عملی میں مسٹر ٹرمپ نے افغانستان میں چار ہزار اضافی فوجی بھیجنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز