اسرائیل کو بڑا جھٹکا ، صیہونیوں کی شدید مخالفت کے باوجود فلسطین انٹرپول کا بنا رکن ، اب ملے گا یہ حق

Sep 27, 2017 11:01 PM IST | Updated on: Sep 27, 2017 11:01 PM IST

بیجنگ : بین الاقوامی سطح پر فلسطینی اتھارٹی کو ایک اور بڑی کامیابی ملی ہے جبکہ اسرائیل کو منہ کی کھانی پڑی ہے ۔ صیہونیوں کی شدید ترین مخالفت کے باجود انٹرپول نے فلسطینی ریاست کو بطور رُکن تسلیم کر لیا ہے۔ اسرائیلی لابیز کی طرف سے عالمی اداروں میں فلسطین کی شمولیت کی شدید مخالفت کی جاتی رہی ۔ تاہم گزشتہ سال اسرائیل کو اس وقت کامیابی بھی حاصل ہوگئی تھی، جب فلسطین گلوبل پولیس باڈی کا رکن بننے میں ناکام ہو گیا تھا۔ اب بیجنگ میں ہونے والے انٹرپول کے سالانہ اجلاس میں فلسطین کی طرف سے رکنیت کی درخواست قبول کر لی گئی ہے۔

انٹرپول کی طرف سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی ریاست اور جزائر سلیمان کے انٹرپول میں آنے سے اس کے اراکین کی تعداد ایک سو بانوے ہو گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے خفیہ رائے شماری کرائی گئی تھی۔ ووٹنگ کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں ، لیکن رکنیت حاصل کرنے کے لیے جنرل اسمبلی میں موجود ملکوں کی دو تہائی اکثریت کی حمایت لازمی ہے۔

اسرائیل کو بڑا جھٹکا ، صیہونیوں کی شدید مخالفت کے باوجود فلسطین انٹرپول کا بنا رکن ، اب ملے گا یہ حق

انٹرپول عالمی امن پولیس کی ایک دیرینہ تنظیم ہے جس کا قیام سنہ1923ء میں عمل میں آیا تھا۔ فائل فوٹو

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن ( پی ایل او) کی طرف سے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں 75 فیصد سے زائد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق انٹرپول نے فلسطین کو رکنیت دیتے ہوئے اس دنیا کو ایک خطرناک جگہ بنا دیا ہے۔ اسرائیل کا موقف تھا کہ فلسطین کوئی ریاست نہیں ہے اور اس وجہ سے وہ انٹرپول کا حصہ بھی نہیں بن سکتا۔ رائے شماری سے کچھ دیر پہلے اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اس عمل کو آئندہ برس تک ملتوی کرنے کی اسرائیلی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

خیال رہے کہ 2012 میں فلسطین کو اقوام متحدہ میں ایک مبصر ملک کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی، جس کے بعد سے فلسطین پچاس سے زائد بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں کا حصہ بن چکا ہے۔ فلسطین جن بین الاقوامی اداروں کا رکن بن چکا ہے، ان میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اور اقوام متحدہ کی ثقافتی ورثے کی تنظیم یونیسکو بھی شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ انٹرپول عالمی امن پولیس کی ایک دیرینہ تنظیم ہے جس کا قیام سنہ1923ء میں عمل میں آیا تھا۔ آج 190 ممالک اس کے رکن ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی نے باضابطہ طور پر 2015ء میں عالمی فوج داری پولیس انٹرپول کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی۔ انٹرپول کی رکنیت ملنے کے بعد فلسطین کو مفرور اور اشتہاری عناصر کا تعاقب کرنے اور ان کے خلاف عالمی عدالتوں مقدمات سمیت دیگر قانونی کارروائیوں کا حق مل گیا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز