القدس ہمیشہ فلسطین کا دار الحکومت رہے گا ، ٹرمپ کے فیصلہ کی کوئی حیثیت نہیں : محمود عباس

Dec 07, 2017 12:45 PM IST | Updated on: Dec 07, 2017 12:45 PM IST

غزہ : فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکی سفارتخانہ کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اعلان کو قیام امن کی کوششوں پر کاری ضرب قرار دیتے ہوئے اسے سختی سے مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی اقدام سے فلسطینی کی تحریک آزادی میں مزید شدت آئے گی۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صدر محمود عباس نے ٹرمپ کے فیصلے کے رد عمل میں کہا کہ القدس عظیم اور قدیم فلسطینی ریاست کا درالحکومت ہے جس کی شناخت ایسے فیصلوں سے تبدیل نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ کہ ٹرمپ کا سفارتخانے کی منتقلی سے متعلق اعلان دراصل امریکہ کا امن عمل کی نگرانی سے دست کشی کا اعلان ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیادت دوست ملکوں کے مشورے سے اس سلسلے میں فیصلے کرنے میں مصروف ہے اور آنے والے دنوں میں فلسطینیوں کی جانب سے معاملے کی پیروی کے لئے دوست ملکوں سے رابطے کئے جائیں گے۔

 القدس ہمیشہ فلسطین کا دار الحکومت رہے گا ، ٹرمپ کے فیصلہ کی کوئی حیثیت نہیں : محمود عباس

صدر عباس نے کہا کہ امریکی صدر نے تاریخ کا ایک ایسا غیر منصفانہ فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن کی کوششیں تباہ ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اقدام پر خاموش نہیں رہیں گے بلکہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جوابی اقدامات پر غور کریں گے۔ صدر عباس نے کہا کہ وہ جلد ہی مرکزی کونسل کا اجلاس بلا کر امریکی صدر کے القدس بارے فیصلے کے رد عمل میں اپنے جوابی اقدامات کا اعلان کریں گے۔

صدر عباس نے کہا کہ ٹرمپ نے مسلم لیڈروں کے متفقہ مطالبے کو نظرانداز کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ صرف صہیونی ریاست کے مفادات پر کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم کے پاس بھی یہ باہمی اتحاد کا تاریخی موقع ہے۔ قابل ذکر ہے بدھ کے روز وائٹ ہاوس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے القدس کو امریکا کا درالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور وزارت خارجہ کو ہدایت کی وہ واشنگٹن کا سفارتخانہ تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کی تیاری کریں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز