پند - پاک کشیدہ تعلقات پربھی پڑ سکتا ہے نوازشریف پر پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا اثر

Jul 13, 2017 11:27 PM IST | Updated on: Jul 13, 2017 11:27 PM IST

اسلام آباد: ہر چند کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے تناظر میں مستعفی ہونے سے صاف انکار کردیا ہے لیکن تما م نگاہیں سپریم کورٹ کے فیصلے پر اور ہمسایوں بالخصوص ہندستان کی نظر اس فیصلے کے مضمرات پر ٹکی ہے۔ پاناما پیپر کیس کے سلسلے میں بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں نواز شریف کی بیٹی پر بھی انگلی اٹھائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ شریف کی بیٹی مریم نواز چانچ کرنے والی ٹیم کو فرضی دستاویزات پیش کئے تھے۔سپریم کورٹ آئندہ ہفتے فیصلہ سنا سکتی ہے۔فیصلہ اگر رپورٹ کے مطابق رہا تو ہمسایوں پر بھی اس کا اثر پڑے گا جس کا تعلق سلامتی کے زمرے سے ہے۔

سردست ہند پاک تعلقات آزمائشی مر حلے سے گزر رہے ہیں ۔ ایسے میں پاکستان میں حکومتی قیادت کے محاذ پر کسی بھی طرح کی تبدیلی کا پہلے سے کشیدہ تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔پاکستانی فوج قومی اور بین اقوامی امور میں حکومتی فیصلوں میں کسی بھی حد تک دخیل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم نواز شریف نے اسلام آباد میں کابینی اجلاس میں وفاقی کابینہ کو پاناما اور جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اعتماد میں لیتے ہوئے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ الزامات، بہتان اور مفروضوں کا مجموعہ ہےلیکن عدالت عالیہ نے اگر رپورٹ کو مسترد کرنے کے بجائے اس کے اخذ کردہ نتائج کی روشنی میں کوئی قدم اٹھا یا تو اس کے اثرات کا دائرہ داخلی حدود پار کر سکتا ہے۔

پند - پاک کشیدہ تعلقات پربھی پڑ سکتا ہے نوازشریف پر پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا اثر

گیٹی امیجیز

کابینی اجلاس کے دوران نواز شریف نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ کسی کے کہنے پر مستعفی نہیں ہوں گے۔ جس کے بعد کابینہ نے ان کے مستعفی نہ ہونے کے اعلان کی توثیق کرتے ہوئے انہیں قانونی جنگ لڑنے کا مشورہ دیا۔ دوسری جانب لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کا بے حد احترام کرتے ہوئے سپریم کورٹ جو فیصلے کریگی اسےقبول کیا جائے گا لیکن اسی کے ساتھ جے آئی ٹی رپورٹ کو پوری قوت سے چیلنچ بھی کیا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز