فرانس میں صدارتی انتخابات میں پین اور میكران دوسرے دور میں

Apr 24, 2017 12:21 PM IST | Updated on: Apr 24, 2017 12:21 PM IST

پیرس۔  فرانس میں صدارتی انتخابات کے پہلے دور کے لئے کل شروع ہوئی ووٹنگ کے ابتدائی رجحانات میں نیشنل فرنٹ کی میرین لے پین اور اعتدال پسندامینیول میكران جیت کی طرف گامزن ہیں۔ پہلے مرحلے کی پولنگ میں ووٹروں کے سامنے مجموعی طور پر 11 امیدواروں کا متبادل تھا۔ مقامی ٹی وی چینلوں کے مطابق مسٹر میكران کو 23.7 فیصد ووٹ ملے، جبکہ محترمہ لے پین کو 21.7 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مسٹر میكران اور محترمہ پین کو قدامت پسند فرانسوا فلن اور ژاں لک میلاشو سے سخت چیلنج ملا۔ ملک کے کل 67 ہزار پولنگ مراکز پر تقریباً 4.7 کروڑ ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ مسٹر میكران اور محترمہ لے پین کے درمیان دوسرے دور کا مقابلہ ہوگا جس کے لئے ووٹنگ سات مئی کو ہوگی۔ محترمہ پین نے جنوری 2011 میں اپنے والد کی جگہ نیشنل فرنٹ کی قیادت سنبھالی تھی اور اس کے ایک سال بعد ہوئے صدارتی انتخابات میں وہ تیسرے نمبر پر رہیں تھیں۔

اگر کوئی بھی امیدوار 50 فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں حاصل کرسکا تو یہ انتخاب دوسرے مرحلے میں جاتے ہیں جس میں پہلے راؤنڈ میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔ ابتدائی اندازے کے مطابق ان انتخابات میں ووٹوں کی شرح 2012 کے انتخابات جتنی ہی رہی ہے۔ اِن انتخابات کو یوروپ کے مستقبل کے لیے بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے جس میں چار امیدواروں کو صدرات کے عہدے کے انتہائی قریب تصور کیا جا رہا تھا۔ ان تمام امیدواروں نے ملک میں انتخابی مہم کے دوران کئی مباحثے کیے اور سب کے سب نے یورپ، امیگریشن، معیشت اور فرانسیسی شناخت کے حوالے سے مختلف نظریات اور تصورات پیش کیے۔

فرانس میں صدارتی انتخابات میں پین اور میكران دوسرے دور میں

انتخابی مہم کے دوران بھی نیشنل سکیورٹی گفتگو کا مرکزی نکتہ رہی ہے، تاہم امیدواروں پر حالیہ حملوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ امینیول میکران موجودہ صدر فرانسوا اولاند کی حکومت میں وزیر برائے معیشت رہ چکے ہیں۔ وہ کبھی بھی ممبر اسمبلی نہیں رہے اور وہ کافی کم تجربہ کار ہیں۔ تاہم کم تجربہ ہونے کے باوجود اندازوں کے مطابق وہ دوسرے راؤنڈ میں لا پین کو شکست دینے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز