پرویز مشرف نے آصف زرداری کو بے نظیر بھٹو کے قتل کا بتایا ذمہ دار، فوری گرفتاری کا مطالبہ

Sep 21, 2017 08:48 PM IST | Updated on: Sep 21, 2017 08:50 PM IST

اسلام آباد: پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے آصف زرداری کوسابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کےقتل کا ذمہ دار گردانتے ہوئے ان کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نوائے وقت کے مطابق جنرل مشرف نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اور مرتضی بھٹو کے قتل سمیت بھٹو خاندان کی تباہی کا ذمہ دار زرداری ہے۔ مرتضیٰ بھٹو اور بی بی کے قتل کی تحقیقات زرداری نے اپنے پانچ سالہ دور صدارت میں نہیں کروائی۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی قتل کیس میں دیکھنا چاہئے کہ اس کا فائدہ یا نقصان کسے ہوا ۔ بی بی کے قتل سے مجھے نقصان اور زرداری کو فائدہ ہوا۔یہ ثابت شدہ ہے کہ بے نظیر کو بیت اللہ محسود اور اس کے لوگوں نے قتل کیا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس سازش کے پیچھے کون تھا۔تحقیقات کی جائیں کہ بلٹ پروف گاڑی کی چھت کٹوا کر کھڑکی کس نے بنوائی ۔بے نظیر نے بہترین سیکورٹی میں دو گھنٹے تک عوام سے خطاب کیا اور گاڑی میں محفوظ بیٹھیں دیکھا جائے کہ انہیں کس نے فون کر کے گاڑی سے سر باہر نکالنے کا کہا ۔

پرویز مشرف نے آصف زرداری کو بے نظیر بھٹو کے قتل کا بتایا ذمہ دار، فوری گرفتاری کا مطالبہ

سابق فوجی سربراہ نے یہ الزام بھی لگایا کہ بے نظیر کا فون غائب کر کے دو سال بعد ثبوت ختم کر کے سامنے لایا گیا۔ گاڑی کے اندر محفوظ بیٹھے صفدر عباسی ، ناہید خان ، مخدوم امین فہیم جیسے چشم دید گواہوں کو بیانات کے لئے عدالت میں کیوں نہیں بلایا گیا۔آصف زرداری کے جیل کے ساتھی خالد شہنشاہ اور رحمن ملک کو کس تجربے کی بنیاد پر بی بی کی سیکورٹی کی ذمہ داریاں دی گئیں۔ بے نظیر کے قتل کے بعد خالد شہنشاہ کو اور پھر خالد شہنشاہ کے قاتل کو کس نے ختم کروایا۔

جنرل مشرف نے یہ بتاتے ہوئے کہ افغان صدرکرزئی سے ان کے تعلقات کشیدہ تھے اور ان کے پاس ایسے لوگ نہیں تھے جن کے ذریعے وہ ان پر اثر انداز ہو سکتے۔ممکن ہے بے نظیر کے قتل میں آصف زرداری اور افغانستان میں موجود اہم لوگ شامل ہوں۔ رحمن ملک جو بی بی کی سیکورٹی کے انچارج تھے بھاگ کر اسلام آباد کیوں چلے گئے۔ بی بی کی واپسی کا روٹ کیوں اور کس نے تبدیل کروایا۔یقین ہے کہ اگر یہ تحقیقات کی جائیں تو قاتل کا پتہ چل جائے گا اور وہ آصف علی زرداری ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز