زمبابوے میں صدرموگابے اور ان کا خاندان فوج کی نگرانی میں

ہرارے۔ زمبابوے میں کل اقتدار پر قبضہ کرنے والی فوج نے کہا ہے کہ صدر رابرٹ موگابے اور ان کا خاندان فوج کی نگرانی میں مکمل طور پر محفوظ ہے اور فوج کا مقصد صدر کے آس پاس منڈلانے والے کرپٹ افراد کو نشانہ بنانا ہے۔

Nov 16, 2017 12:49 PM IST | Updated on: Nov 16, 2017 12:50 PM IST

ہرارے۔ زمبابوے میں کل اقتدار پر قبضہ کرنے والی فوج نے کہا ہے کہ صدر رابرٹ موگابے اور ان کا خاندان فوج کی نگرانی میں مکمل طور پر محفوظ ہے اور فوج کا مقصد صدر کے آس پاس منڈلانے والے  کرپٹ افراد کو نشانہ بنانا ہے۔ فوج کے ایک اعلی افسر اور چیف آف اسٹاف لاجسٹكس، میجر جنرل ایس بی مويو نے سرکاری ٹیلی ویژن پر تختہ پلٹے جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا "ہمارا نشانہ صرف وہ لوگ ہیں جو صدر کے چاروں طرف رہتے ہوئے کئی جرائم کو انجام دے رہے ہیں اور ملک کو سماجی اوراقتصادی طور پر بدحالی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف زوردار کارروائی کی جائے گی۔ جیسے ہی ہم محسوس کریں گے کہ فوج کا مقصد پورا ہو گیا ہے تو عام حالات کی توقع کی جا سکے گی۔ "اس دوران فوج کے اقتدار ہاتھ میں لینے کے بعد پہلی بار دنیا کے ساتھ رابطے کرنے والے صدر موگابے نے جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما کے لیے ٹیلی فون کر کے بتایا کہ وہ اپنی رہائش گاہ میں فوج کی نگرانی میں ہیں اور مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پایا کہ فوج کا مقصد کیا صدر موگابے کے دور حکومت کو ختم کرنا ہے یا نہیں، لیکن فوجی گلیاروں میں مانا جا رہا ہے کہ فوج کا مقصد ان کی بیوی گریس مسٹر موگابے کا جانشین بننے سے روكنا ہے۔ ادھر ایک اور واقعہ میں حکمراں پارٹی کی نوجوان شاخ کے صدر كدجانيہ چپانگا نے فوج کے بارے میں ایک دن پہلے دیئے گئے بیانات کو لے کر معافی مانگ لی ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنے معافی نامہ میں چپانگا نے کہا کہ وہ اپنی طرف سے ایسا بول رہے ہیں اور ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

زمبابوے میں صدرموگابے اور ان کا خاندان فوج کی نگرانی میں

زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کے ساتھ ان کی اہلیہ گریس موگابے: گیٹی امیجیز۔

ان واقعات کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیوگوتریز، افریقی یونین اور مغربی ممالک نے زمبابوے میں امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور جنوبی افریقہ کے وزیر دفاع اور وزیر داخلہ دارالحکومت ہرارے پہنچ گئے ہیں جو مسٹر موگابے اور فوجی جرنیلوں کے درمیان مذاکرات میں تعاون کر سکتے ہیں۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے پارلیمنٹ میں کہا "ہم نہیں بتا سکتے کہ زمبابوے میں پیش آنے والے واقعات آنے والے دنوں میں کس طور کروٹ بیٹھیں گے اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ کیا یہ مسٹر موگابے کے دور حکومت کا اختتام ہے یا نہیں لیکن جتنا ممکن ہوگا ہم اپنے بین الاقوامی دوستوں کے ساتھ مل کر تعاون کرسکتے ہیں۔ اس سے یہ بات یقینی ہو سکے گی کہ وہاں کے شہریوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں ایک فطری موقع ملے گا‘‘۔

اس پورے معاملہ پر اپنی رائے کا اظہارکرتے ہوئے اپوزیشن پارٹی موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج نے آئینی طریقے سے جمہوریت بحالی کا اعلان کیا ہے۔ اس نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ فوجی مداخلت سے ملک میں ایک مستحکم، جمہوری اور ترقی پسند حکومت قائم ہوگی۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز