طلاق ثلاثہ آرڈیننس کو صدر صدر جمہوریہ رام ناتھ كووند کی منظوری

طلاق ثلاثہ سے متعلق بل اور دو دیگر بلوں کے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں منظور نہ ہونے کی وجہ سے ان کی جگہ دوبارہ لائے جانیوالے متعلقہ آرڈیننس کو صدر رام ناتھ كووند نے آج منظوری دے دی۔

Jan 12, 2019 09:38 PM IST | Updated on: Jan 12, 2019 09:40 PM IST

طلاق ثلاثہ سے متعلق بل اور دو دیگر بلوں کے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں منظور نہ ہونے کی وجہ سے ان کی جگہ دوبارہ لائے جانیوالے متعلقہ آرڈیننس کو صدر رام ناتھ كووند نے آج منظوری دے دی۔ طلاق ثلاثہ کی روایت کو فوجداری کے تحت جرم قرار دینے سے متعلق مسلم خواتین (شادی کے حقوق کا تحفظ) بل 2018، میڈیکل کونسل آف انڈیا (ترمیمی) بل 2018 اور کمپنی (ترمیمی) بل، 2019 لوک سبھا میںتو منظور ہو گئے تھے لیکن انہیں راجیہ سبھا میں منظور نہیں مل سکی تھی۔ لہذا کابینہ نے گزشتہ 10 جنوری کو دوبارہ آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا۔

تین طلاق اور میڈیکل کونسل پر آرڈیننس گزشتہ سال ستمبر میں اور کمپنی قانون میں ترمیم کے لئے آرڈیننس گزشتہ سال نومبر میں لایا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں تینوں سے متعلق بل لوک سبھا میں منظور ہو گئے، لیکن هنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا میں زیادہ تر وقت کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایوان بالا میں منظور نہیں ہو سکے۔

طلاق ثلاثہ آرڈیننس کو صدر صدر جمہوریہ رام ناتھ كووند کی منظوری

واضح رہے کہ آرڈیننس لانے کے بعد اگلے پارلیمنٹ سیشن کے شروع ہونے کے 42 دن کے اندر اس سے متعلق بل اگرپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظور نہیں ہو پاتا ہے تو آرڈیننس خود بہ خود خارج ہو جاتا ہے لہذا حکومت کو تینوں آرڈیننس دوبارہ لانے پڑے ہیں۔

Loading...

تین طلاق سے متعلق آرڈیننس میں تحریری، زبانی یا کسی دوسرے ذریعے سے تین طلاق دینے کو غیر قانونی بنایا گیا ہے۔ اس میں ڈیجیٹل ذرائع سے دیئے گئے تین طلاق کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

تین طلاق دینے والے کو تین سال تک کی سزا اور جرمانے کی تجویز ہے۔آرڈیننس کے ذریعے اسے غیر ضمانتی جرم بنایا گیا ہے، حالانکہ مجسٹریٹ میاں بیوی کے درمیان صلح کرانے اور بیوی کی دلیل سننے کے بعد شوہر کو ضمانت دے سکتا ہے۔کمپنی قانون میں ترمیم والے آرڈیننس کے ذریعے کمپنی قانون کی 16 دفعات میں ترمیم کی گئی ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز