لبنان میں حجاب کی توہین پر طلبہ کا پروفیسر کے خلاف شدید احتجاج

مسلمان خواتین کے حجاب اور نقاب پرمغربی دنیا میں منفی طرز عمل اور بحث کوئی نئی بات نہیں مگر حال میں لبنان جیسے کثٰیر القومی ملک میں ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے حجاب کی توہین پر مبنی ایسے الفاظ استعمال کیے جس کے نتیجے میں اس کی نسل پرستی تو سامنے آئی مگر طلباء اور سوشل میڈیا پر شہریوں کو سخت مشتعل بھی کر دیا

Sep 22, 2017 09:03 PM IST | Updated on: Sep 22, 2017 09:03 PM IST

بیروت : مسلمان خواتین کے حجاب اور نقاب پرمغربی دنیا میں منفی طرز عمل اور بحث کوئی نئی بات نہیں مگر حال میں لبنان جیسے کثٰیر القومی ملک میں ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے حجاب کی توہین پر مبنی ایسے الفاظ استعمال کیے جس کے نتیجے میں اس کی نسل پرستی تو سامنے آئی مگر طلباء اور سوشل میڈیا پر شہریوں کو سخت مشتعل بھی کر دیا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 25 سال تک مسلسل خانہ جنگی کی لپیٹ میں رہنے والے لبنان میں اس وقت بھی 18 مختلف نسلوں اور طبقات کے لوگ آباد ہیں۔ حال ہی میں بیروت میں قائم امریکن یونیورسٹی کی ایک 18 سالہ طالبہ مریم دجانی نے سوشل سائنسز کے لیکچر کے دوران ان سے ایک جملے کو دہرانے کی درخواست کی جس پر پروفیسر سمیر خلف بہت بگڑے۔ مریم چونکہ ایک با حجاب طالبہ ہیں۔ اس لیے پروفیسر صاحب کے غصے کا ایک بڑا سبب اس کے حجاب کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔

جب مریم دجانی نے استاد محترم سے اپنا ایک جملہ دہرانے کی بات کی تو پروفیسر سمیر خلف نے طیش میں آ کر مریم سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا ساتھ ہی اس کے حجاب پر بھی بحث چھیڑ دی۔ سمیر الخلف نے مریم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جو تم نے اپنے سر اور کانوں کو ایک بے وقوفانہ انداز میں ڈھانپ رکھا رہے۔ اسے اتاریں تاکہ آپ کے کانوں تک آواز اچھی طرح پہنچ سکے‘۔بھرے کمرہ جماعت میں ایک طالبہ کے حجاب کی یوں توہین کی تو مریم سے یک صدمہ برداشت نہ ہوسکا۔ اس نے اس کی شکایت یونیورسٹی کی انتظامیہ تک پہنچائی۔ انتظامیہ کی طرف سے بھی کہا گیا کہ یہ پروفیسر صاحب کی ذاتی رائے ہے، نیزاس سے مراد تمام با حجاب خواتین کو تنقید کا نشانہ بنانا ہرگز نہیں۔

لبنان میں حجاب کی توہین پر طلبہ کا پروفیسر کے خلاف شدید احتجاج

تاہم مریم کا کہنا ہے کہ پروفیسر سمیر خلف نے اس کی ذات کو نہیں بلکہ مجموعی طور پر اسلامی طریقہ حجاب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سے ان تمام با حجاب خواتین کی دل آزاری ہوئی ہے۔پروفیسر صاحب نے نہ صرف لیکچر کے دوران مریم کے مطالبے پر اپنی بات دہرائی بلکہ لیکچر ختم کرنے کے بعد اس کی مزید انکوائری شروع کردی کہ تم نے کون سے اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ کیا تمہاری والدہ بھی حجاب پہنتی ہیں؟ جیسے سوالات نے مریم کو مزید مشتعل کردیا۔ مریم کا کہنا ہے کہ پروفیسر صاحب حجاب کے بارے میں ایسے بات کرتے جیسا کہ انہوں نے کبھی کوئی با حجاب خاتون نہ دیکھی ہو۔

بیروت میں قائم امریکن یونیورسٹی کے طلباء طالبات کی بڑی تعداد نےپروفیسر خلف کے ریمارکس کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ احتجاج کرنے والی طالبات میں حجاب نہ کرنے والی لڑکیاں بھی شامل تھیں۔ انہوں نے بھی مریم کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر سمیر خلف کے ریمارکس کو نسل پرستانہ قرار دیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے مریم دجانی نے کہا کہ پروفیسر سمیر خلف نے حجاب کا مذاق اڑا کراس کی ذات کی نہیں بلکہ حجاب اوڑھنے والی تمام خواتین کی توہین کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو بہت ہی مناسب فیصلہ جاری کرے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز