امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلہ کے خلاف انڈونیشا میں شدید احتجاج ، 80 ہزار افراد نکلے سڑکوں پر

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت ماننے کے اعلان کے بعد انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں اہم مسجد کے ہزاروں مسلمانوں نے آج ریلی نکال کر مظاہرہ کیا۔

Dec 17, 2017 07:40 PM IST | Updated on: Dec 17, 2017 07:40 PM IST

جکارتہ: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت ماننے کے اعلان کے بعد انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں اہم مسجد کے ہزاروں مسلمانوں نے آج ریلی نکال کر مظاہرہ کیا۔ دہائی پرانی امریکی پالیسی ختم کرتے ہوئے مسٹر ٹرمپ کے ذریعہ اٹھائے گئے اس قدم کے بعد انڈونیشیا میں یہ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ ہے۔پولیس کا خیال ہے کہ جلوس میں مختلف مسلم تنظیموں کے تقریباً 80ہزار لوگوں نے حصہ لیا ہے۔احتجاجی مظاہرہ حالانکہ پرامن رہا لیکن پولیس نے جکارتہ میں واقع امریکی سفارت خانے کے باہر تاروں کی باڑ لگاکر مظاہرین کو قابو میں رکھا۔ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ جلوس کے دوران 20ہزار پولیس اور فوجی اہلکار تعینات تھے۔

انڈونیشیا علما کونسل کے جنرل سکریٹری انور عباس نے بھیڑ میں کہا کہ وہ سبھی ملکوں سے امریکہ کے ذریعہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت ماننے کے یک طرفہ اور غیر قانونی فیصلے کو خارج کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔انہوں نے انڈونیشیا میں امریکی سفیر کو عرضی دینے سے پہلے کہا کہ وہ اندونیشیا کے لوگوں سے امریکہ اور اسرائیل کے مصنوعات کا بائکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ متعدد مظاہرین سفید کپڑے پہن کر اور ہاتھ میں فلسطینی پرچم اور محبت ،امن اور آزاد فلسطین کے بینر لے کر مظاہرہ کررہے تھے ۔انڈونیشیا میں اس مسئلے پر جگہ جگہ مظاہرے ہورہے ہیں جن میں کچھ بنیاد پرست تنظیموں کو امریکہ اور اسرائیل کے پرچم جلاتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلہ کے خلاف انڈونیشا میں شدید احتجاج ، 80 ہزار افراد نکلے سڑکوں پر

دنیا بھر کے مسلمانوں ،یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے خصوصاً مذہبی اہمیت رکھنے والا یروشلم اسرائیل اور فلسطین کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ میں سے ایک ہے۔اسرائیل نے سال 1967میں فلسطین کے مشرقی حصہ پر قبضہ کرلیا تھا۔فلسطین مشرقی یروشلم کے ایک آزاد ریاست اور دارالحکومت ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے واپس مانگ رہا ہے جبکہ اسرائیل مکمل یروشلم کو اپنا دارالحکومت مانتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز