اوباما انتظامیہ ٹرمپ کو نیچا دکھانے کی کوشش میں: پوتن

Jan 18, 2017 03:35 PM IST | Updated on: Jan 18, 2017 03:35 PM IST

ماسکو۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے سبکدوش ہونے والی اوباما انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ نو منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر جھوٹے الزام لگا کر انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔  پوتن نے کل یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر ٹرمپ کے خلاف پیش کئے گئے دستاویزات اوباما انتظامیہ کی نو منتخب صدر ٹرمپ کی پوزیشن کو کمزور کرنے کی سمت میں کی جا رہی کوششوں کا حصہ ہیں۔ ’ڈوزیئر‘ میں لگائے گئے ایک الزام کو پوتن نے ’’جعلی‘‘ قرار دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ 2013ء میں ماسکو کے ایک ہوٹل میں ٹرمپ جنسی نوعیت کی حرکات میں ملوث پائے گئے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے یہ الزام لگائے ہیں وہ ’’عصمت فروش خواتین سے بدتر‘‘ ہیں۔

مسٹر پوتن نے کہا کہ گذشتہ ہفتے ایک غیرمصدقہ دستاویز جاری کی گئی جس میں ٹرمپ کے بارے میں فحش نوعیت کے الزامات لگائے گئے، جو امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی اُن کوششوں کا ایک حصہ ہے جن کا مقصد ’’منتخب صدر کی قانونی حیثیت کو دھچکا پہنچانا ہے‘‘، حالانکہ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب ’’وثوق کے ساتھ‘‘ جیتا ہے۔ ’ڈوزیئر‘ میں لگائے گئے ایک الزام کو پوتن نے ’’جعلی‘‘ قرار دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ 2013ء میں ماسکو کے ایک ہوٹل میں ٹرمپ جنسی نوعیت کی حرکات میں ملوث پائے گئے۔ پوتن نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے یہ الزام لگائے ہیں وہ ’’عصمت فروش خواتین سے بدتر‘‘ ہیں، اور سوال کیا آیا ٹرمپ کو ’’طوائفوں کی ضرورت کیوں پڑے گی‘‘ جب کہ وہ ’’دنیا کی سب سے زیادہ خوبصورت خواتین کے ساتھ رہ چکے ہیں‘‘۔ ایسی من گھڑت خبریں جاری کرنے کا ذمہ دار ٹرمپ نے انٹیلی جنس برادری کو قرار دیا ہے، جس نے ٹرمپ پر روسی حکومت کے ساتھ رابطوں کا بھی الزام لگایا ہے، اور سوال کیا آیا اِس کے ذمہ دار سینٹرل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جان برینن ہیں۔

اوباما انتظامیہ ٹرمپ کو نیچا دکھانے کی کوشش میں: پوتن

تصویر: رائٹرز

گذشتہ ہفتے ایک ٹوئٹر پیغام میں، منتخب صدر نے انٹیلی جنس کمیونٹی کا موازنہ نازی جرمنی سے کیا تھا۔ پیر کے روز ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں، برینن نے نازیوں کے ساتھ تشبیہ دینے کو ’’ناگوار‘‘ قرار دیا؛ اور کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے انٹیلی جنس کمیونٹی کے قابلِ اعتماد ہونے پر نکتہ چینی ’’بے جواز‘‘ ہے۔ برینن نے کہا تھا کہ آپ 117 سی آئی اے اہل کاروں کے اہل خانہ کو کیا بتائیں گے جن کے نام تعظیم کے طور پر ہمارے ادارے کی دیواروں پر کندہ ہیں، کہ اُن کے جِن پیاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا وہ نازیوں کے قرابت دار ہیں‘‘۔ برینن نے اس بات کو مسترد کیا کہ ’ڈوزیئر‘ کے افشا ہونے میں وہ ملوث ہیں، جسے برطانیہ کے ایک سابق انٹیلی جنس اہل کار نے مرتب کیا۔ برینن نے کہا کہ رپورٹ کا خلاصہ بریفنگ کی دستاویز میں شامل تھا جسے ایف بی آئی کی درخواست پر صدر اوباما اور منتخب صدر ٹرمپ کے حوالے کیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز