سفارتی بحران کو حل کرنے کو تیار، لیکن اقتدار کی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں : قطر

Jun 30, 2017 12:38 PM IST | Updated on: Jun 30, 2017 12:38 PM IST

دوحہ: قطر نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی بحران کو حل کرنے کے لئے تیار ہے لیکن اس کے لئے ملک کی سیادت اور اقتدارکی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بحران کے ازالے کے لئے امریکہ میں کئی اہم میٹنگوں کے بعد وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے گزشتہ روزکہا کہ "ہم نے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ کسی بھی جائز معاملے پر بات چیت کے لئے تیار ہیں لیکن ہم اپنی خودمختاری سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پڑوسی ممالک کا یہ قدم صاف طور پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور ایک 'جارحانہ کارروائی ہے۔ یہ قدم بے بنیاد حقائق اور ناقص خیالات پر اٹھایا گيا ہے۔ ان الزامات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔

سفارتی بحران کو حل کرنے کو تیار، لیکن اقتدار کی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں : قطر

قطر کے وزیر خارجہ شیخ عبدالرحمان آل ثانی، تصویر، رائٹرز

قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے دہشت گردی کو حمایت دینے کے الزام میں پانچ جون کو قطر سے تمام تعلقات ختم کر لئے تھے۔ تقریبا دو ہفتے بعد انہوں نے قطر کو 13 نکاتی مطالبات کی ایک فہرست سونپی ، جس میں الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کو بند کرنے اور ترکی کے فوجی اڈے کو بند کرنے کے مطالبے بھی شامل ہیں۔ ان عرب ممالک نے قطر کو مطالبات قبول کرنے کے لئے 10 دنوں کا الٹی میٹم بھی دیا ہے۔ اگر قطر ان کے مطالبات کو تسلیم کرلیتا ہے تو اس کے خلاف جاری تمام پابندیاں ختم کر دی جائيں گی۔ مطالبات کی فہرست میں قطر کو ایران سے اپنے تعلقات کو کم کرنے کے لیے بھی کہا گيا ہے۔ قطر نے دہشت گردی کو حمایت دینے سمیت ان تمام الزامات کو سرے سے مسترد کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز