خلیجی بحران: جوابی اقدام کے بجائے قطر ثالثی کی کوششوں کے لئے تیار

Jun 07, 2017 12:07 PM IST | Updated on: Jun 07, 2017 12:07 PM IST

دبئی۔  قطر نے کہا ہے کہ وہ عرب ممالک کے ساتھ اپنے کشیدہ تعلقات سدھارنے کی خاطر ثالثی کی کوششوں کے لئے تیار ہے۔ سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، یمن اور مالدیپ نے گزشتہ روز دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کے الزام میں قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر لئے تھے اور اس کے ساتھ فضائی اور سمندری رابطے فوری اثر سے منقطع کرلئے تھے۔ قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ان کا ملک خلیجی بحران کو حل کرنے کی خاطر ثالثی کی کوششوں کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اس سلسلے میں ملک کے لوگوں کو خطاب کرنے والے تھے لیکن انہوں نے کل رات اپنے کویتی ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات چیت کی جس میں قطر کے ساتھ پڑوسی ممالک کے تعلقات ختم کرنے کے مسئلے پر گفتگو ہوئی اور اس کے بعد انہوں نے کویتی امیر کی درخواست پر قوم کے نام اپنا خطاب ملتوی کر دیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ قطر خلیجی ممالک کے اقدام پر کوئی جوابی اقدام نہيں کرے گا اور وہ کویت کے شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح کو دیگر فریقوں کے ساتھ بات چیت کرنے اور اس بحران کا حل نکالنے کا موقع دینا چاہتا ہے۔

خلیجی بحران: جوابی اقدام کے بجائے قطر ثالثی کی کوششوں کے لئے تیار

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی، تصویر، الجیزیرہ ڈاٹ کام: فائل فوٹو

قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمان الثانی نے کہا کہ کویتی فرمانروا نے 2014 کے خلیج بحران کو حل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا اور قطر کے شاہ انہیں اپنا سرپرست مانتے ہیں اور بحران کی واضح تصویر سامنے آنے تک قوم کے نام خطاب یا کوئی دوسرا قدم نہیں اٹھانے کی ان کی خواہش کا احترام کرتے ہیں۔ وزیر موصوف نے الجزیرہ کو بتایا کہ قطر کے خلاف کی گئی کارروائی سے قطری شہریوں اور دیگر خلیجی ممالک میں ان کے خاندانی تعلقات پر بے انتہا اثر پڑا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قطر اس کے رد عمل میں کوئی جوابی کارروائی نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ قطر اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اختلافات کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے میں یقین رکھتا ہے۔

واضح ر ہے کہ سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گزشتہ روزقطر کےساتھ سفارتی تعلقات ختم کر لئے تھے ، بعد میں لیبیا ، یمن اور مالدیپ نے بھی ان کا ساتھ دیا تھا اور قطر کے ساتھ فضائی اور سمندری رابطے فوری طورپر ملتوی کردیئے تھے۔

مصر اور خلیجی ممالک پہلے ہی قطر میں اخوان المسلمین اور دیگر اسلامی انتہاپسندوں کو حمایت دیئے جانے پر ناراضگی ظاہر کرتے رہے ہیں۔ سعودی عرب نے اس پر اخوان المسلمین، اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ سمیت کئی دہشت گرد اور بنیاد پرست گروپوں کو پناہ دینے اور سرکاری میڈیا کے ذریعے ان کے خیالات کو نشرکرنے کا الزام لگایا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز