قطر نے سعودی عرب کے ساتھ بات چیت سے کیا انکار، کہا، ایران سمیت دوسرے ملکوں پر کریں گے انحصار

Jun 20, 2017 01:04 PM IST | Updated on: Jun 20, 2017 01:06 PM IST

دوحہ۔ خلیجی ملکوں میں جاری سفارتی کشیدگی کے درمیان قطر نے آج واضح کر دیا ہے کہ وہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں کے ساتھ اس وقت تک بات چیت نہیں کرے گا جب تک کہ یہ ممالک اقتصادی اور سفارتی ناکہ بندی والے اپنے اقدامات واپس نہیں لے لیتے۔ قطر نے اپنے داخلی امور کے بارے میں بات چیت کے امکان کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ قطر کے وزیر خارجہ شیخ عبدالرحمان آل ثانی نے پیر کے روز دارالحکومت دوحہ میں نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ قطر ناکہ بندی کے زیر اثر ہے، اس لئے کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت شروع کرنے کے لئے انہیں قطر کی ناکہ بندی ختم کرنا ہو گی۔

الجزیرہ ڈاٹ کام کے مطابق، قطری وزیر خارجہ نے کہا کہ ناکہ بندی کو ختم کرنے کے لئے اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور بات چیت شروع کرنے کے لئے یہ ہماری پیشگی شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر کو ابھی تک سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے کوئی مطالبہ موصول نہیں ہوا ہے۔ شیخ عبدالرحمان آل ثانی نے کہا کہ اگر قطر کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو ایسی صورت میں قطر سعودی عرب کے علاقائی حریف ایران سمیت دوسرے ملکوں پر انحصار کرے گا۔

قطر نے سعودی عرب کے ساتھ بات چیت سے کیا انکار، کہا، ایران سمیت دوسرے ملکوں پر کریں گے انحصار

قطر کے وزیر خارجہ شیخ عبدالرحمان آل ثانی، تصویر، رائٹرز

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے قطر میں خوراک اور دوسرے امدادی سامان سے لدے مال بردار طیارے بھیجے ہیں اور ہم ان تمام ملکوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں جو قطر کے لئے اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز