امریکہ میں رابطہ عالم اسلامی کی دو روزہ کانفرنس شروع ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کا موضوع سر فہرست

Sep 17, 2017 12:18 PM IST | Updated on: Sep 17, 2017 03:03 PM IST

نیویارک : نیویارک میں ہفتے کے روز رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام ریاست متحدہ ہائے امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان مہذب ابلاغ کے موضوع پر کانفرنس شروع ہوگئی ہے۔اس میں امریکہ اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے اسلامی اداروں کے نمائندے ، ماہرین تعلیم ، دانشور اور سائنسدان شریک ہیں۔کانفرنس دو روز جاری رہے گی اور اس میں امریکہ اور اسلامی دنیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور ابلاغ کے حوالے سے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ان میں امریکہ اور اسلامی دنیا کے درمیان ثقافتی شراکت داری : حقیقت اور خواہشات ۔عالمی امن کے فروغ میں اسلام کا کردار ۔ امریکہ میں مسلمان : مطابقت اور شہریت ۔مذہبی آزادیوں کے اطلاق میں دانشورانہ رجحانات۔ امریکہ اور اسلامی دنیا کے درمیان ابلاغ ، اجتماعی تہذیبی اور انسانی اقدار۔امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان باہمی مکالمے ایسے موضوعات شامل ہیں۔کانفرنس میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ممتاز دانشور ، محققین اور ماہرین تعلیم شریک ہیں۔کانفرنس کے دوران میں مسلم اور امریکی طلبہ کے درمیان مباحثے کے مختلف سیشن بھی ہوں گے۔

امریکہ میں رابطہ عالم اسلامی کی دو روزہ کانفرنس شروع ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کا موضوع سر فہرست

رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے وضاحت کی ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد اسلامی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس میں اسلامی تاریخ سے دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ مسلمانوں کے مل جل کر رہنے کے واقعات کو اجاگر کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ مذہبی اور دانشورانہ انتہا پسندی ایک ابنارمل اور الگ تھلگ معاملہ ہے۔اسلامی دنیا نے اس انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑی ہے تاکہ اس کو پھیلنے سے روکا جاسکے اور یہ دوسروں کو نقصان نہ پہنچائے۔

کانفرنس میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا موضوع سرفہرست ہے اور اس میں اس بات پر زوردیا جائے گا کہ انتہا پسندی کی شرح اسلامی دنیا میں بہت تھوڑی ہے۔ تازہ تخمینے کے مطابق ہر دو لاکھ میں سے ایک شخص کی انتہا پسند کے طور پر شناخت کی گئی ہے اور یہ کم ترین شرح دانشورانہ اور عسکری سطح پر مہموں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔

رابطہ عالمی اسلامی کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ’’ انتہا پسندی کو اس کےاستیصال کے لیے کوششوں اور ’’اسلام فوبیا‘‘ سے بڑھاوا مل سکتا ہے،اس میں نئے عناصر شامل ہوسکتے ہیں۔اس کے علاوہ انتہا پسندی ایک عمومی اور جامع تصور ہے اور یہ صرف اسلام تک محدود نہیں ہے۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ معاصر اور قدیم تاریخ اسلام کی رواداری کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز