ہندوستان کے امن و ہم آہنگی والے وقار کو آزمائش کا سامنا: راہل گاندھی

Sep 21, 2017 01:29 PM IST | Updated on: Sep 21, 2017 01:31 PM IST

نئی دہلی۔ بی جے پی کی طرف واضح اشارے کے ساتھ  کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے آج کہا کہ بعض طاقتیں ملک کو تقسیم کرنے پر تلی ہیں اور بیرون ملک ہندوستان کے امن اور ہم آہنگی والے ملک کے وقار کو تباہ کررہی ہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ ’’ہندستان نے ہمیشہ دنیا کو ہم آہنگی کے ساتھ جینے کا طریقہ بتایا ہے ۔ ہزاروں سال سے ہندستان امن اور ہم آہنگی کے وقار کا حامل ہے لیکن آج اسکی اس پہچان کو آزمائش کا سامنا ہے۔ ملک کی بعض طاقتیں ملک کو بانٹنے پر تلی ہیں اوریہ ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس طرح بیرون ملک ہمارا وقار تباہ ہورہا ہے‘‘۔

مسٹر گاندھی نیویارک میں انڈین نیشنل اوورسیز کانگریس سے خطاب کررہے تھے جس میں انہوں نے کہا کہ کانگریس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امن اورہم آہنگی والے ملک کی حیثیت سے ہندستان کے وقار کا دفاع کرے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ہندستانی وقار کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ بدلتی ہوئی دنیا میں لوگوں کی نظریں ہندستان کی طرف ہیں۔ تشدد سے دو چار دنیا کے کئی ممالک ہندستان کو دیکھ کر غالباً یہ سوچ رہے ہیں کہ ہندستان ہی اکیسویں صدی کا جواب ہوگا۔ خدا کرے کہ ہندستان اکیسویں صدی میں پرامن ہم وجودیت کی مثال بن کر ابھرے ۔ مسٹر گاندھی نے مزید کہا کہ ’’اس پس منظر میں ہم اپنے مضبوط اثاثے کو کھونے کے متحمل نہیں ۔ ہمارا سب سے اہم اثاثہ ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی ہے جو عدم تشدد پر یقین رکھتی ہے اور امن و خوشحالی کے ساتھ جینا چاہتی ہے اور دنیا اس کا احترام کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی پہچان ہے جس کا ہر کانگریسی کو دفاع کرنا ہے۔ ہندستان ملک میں بسنے والے تمام لوگوں کا ملک ہے۔ کون کیا ہے اس سے کوئی غرض نہیں‘‘۔

ہندوستان کے امن و ہم آہنگی والے وقار کو آزمائش کا سامنا: راہل گاندھی

راہل گاندھی نیویارک میں انڈین نیشنل اوورسیز کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے: فوٹو راہل گاندھی کے آفیشیل ٹوئیٹر پیج سے۔

کانگریس کو ہندستانی امن اور عدم تشدد کی نمائندگی کرنے والی متحرک پارٹی قرار دیتے ہوئے مسٹرگاندھی نے کہا کہ ’’ہمارے ملک میں کئی مذاہب ہیں کئی زبانیں بھی ہیں اور ہر زبان و مذہب کے لوگ ہنسی خوشی مل جل کر رہتے ہیں اور اس کی جو وجہ ہے کانگریس اسی کی ترجمان ہے۔ کانگریس زائد ازایک صدی پرانی تنظیم ہے اورہم ہزاروں ہزار سال پرانے امن کے فلسفے کی نمائندگی کرتے ہیں‘‘۔ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو سب سے بڑی آزمائش قرار دیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ روزانہ تقریباً تیس ہزار نوجوان روزگار کی منڈی کا رخ کرتے ہیں لیکن آج حالات یہ ہیں کہ ان میں سے صرف چارسو پچاس نوجوانوں کو روزگار مل پاتا ہے۔ یہ ملک کے لئے ایک زبردست چیلنج ہے جس سے رجوع کرنے کے لئے عوامی اتحاد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان اگر روزگار فراہم نہیں کرسکتا تو وہ اپنے نوجوانوں کوکوئی ویژن بھی نہیں دے سکتا۔ ’’سردست ساری توجہ پچاس ساٹھ بڑی کمپنیوں کی طرف ہے جبکہ لاکھوں لاکھ روزگار پیدا کرنے کے لئے چھوٹے اوردرمیانہ تاجروں اورکاروباریوں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے‘‘۔

زراعت کو ایک اہم اور حکمت سے بھرپور اثاثہ قرار دیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے ہندستانی زراعت اور کسانوں کو بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ فوڈپروسیسنگ کے اداروں کو کھیتوں اور کسانوں سے قریب کرنے کی ضرورت ہے۔ زراعت کی ترقی کسانوں کو بااختیار بنانے سے ہی ممکن ہوگی۔ انہوں نے آئی آئی ٹی اداروں کو ہندستانی صنعتوں اور دنیا میں پھیلے کاروبار سے مربوط کرنے پر زور دیا تاکہ تقابلی دوڑ میں مدد ملے۔ ’’ امریکی یونیورسٹیاں اپنے آپ میں نیٹ ورک کی حیثیت رکھتی ہیں اور علم و معلومات کو ان کے درمیان اپنا دائرہ وسیع کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ہمارے یہاں آئی آئی ٹی ادارے تو کافی بڑے ہیں لیکن وہ اپنے آپ میں نیٹ ورک نہیں۔ اگر ہم اپنے ان اداروں کو دنیا بھر کے صنعتی اداروں اور کاروباری حلقوں سے مربوط کرتے ہیں تو عالمی تجارت کے تقابلی دوڑ میں وہ حصہ لینے کے متحمل ہوجائیں گے‘‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز