یہاں مسلمانوں کو روزہ رکھنے سے روکا جا رہا ہے

Jun 01, 2017 04:17 PM IST | Updated on: Jun 01, 2017 04:18 PM IST

نئی دہلی۔ چین کی حکومت اپنے اہم مسلم صوبہ شنجيانگ میں رمضان المبارک کے مہینے میں سرکاری حکام، ٹیچرس اور طلبہ کو روزہ رکھنے پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ورلڈ ایغور کانگریس (ڈبلیويوسی) کے مطابق، افسروں نے صوبے میں تمام ریستوران کو کھولے رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ ایسی ہدایات دی گئی ہیں جس سے لوگوں کو روزہ رکھنے سے روکا جا سکے۔ اس صوبے میں نسلی بنیاد پر الگ ایغور لوگ بڑے پیمانے پر رہتے ہیں۔ یہ گروپ برسوں سے بیجنگ میں اپنے مذہبی اظہار آزادی اور کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے لگائے جا رہے الزامات کے خلاف جدوجہد کر رہا ہے۔

انڈیپینڈنٹ کی خبر کے مطابق، انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعوی ہے کہ اس علاقے میں تقریبا 10 ملین ایغورمسلمان رہتے ہیں۔ یہاں مذہب اور ثقافت کی پابندیوں کو لے کر جدوجہد ہوتی رہتی ہے۔ بتا دیں کہ گزشتہ سال بھی چین نے ایسی ہی پابندی لگائی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کمیونسٹ آف چین کے ارکان کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ رمضان المبارک کے دوران روزہ نہیں رکھیں گے۔

یہاں مسلمانوں کو روزہ رکھنے سے روکا جا رہا ہے

 

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز