ایک ایسا گاوں ، جہاں گزشتہ 15 سالوں سے ایک ہی دسترخوان پر کی جاتی ہے افطاری

Jun 04, 2017 04:59 PM IST | Updated on: Jun 04, 2017 04:59 PM IST

ترکی : اجتماعی افطاری کی تہذیب تو پوری دنیا میں ہے اور مسلمان روزہ دار ایک دوسرے کو افطاری میں شریک کرنے کو باعث اجر وثواب سمجھتے ہیں ، مگر ترکی میں ایک گاؤں کے لوگ گزشتہ 15 سالوں سے ماہ صیام کے دوران ایک ہی دستر خوان پر افطاری کرتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترکی کی ریاست یوزغات کے نواحی علاقہ کارلی کے تمام مرد وخواتین ماہ صیام آتے ہی باہمی رنجشیں بھلا کر محبت و بھائی چارے کے ناقابل بیان رویے کا اظہار کرتے ہیں اور پورا ماہ صیام ایک دستر خوان پر افطاری کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ’کارلی‘ ایک چھوٹا قصبہ ہے جس میں 30 گھر ہیں۔ گاؤں کے تمام افراد ایک مقامی مسجد کے زیر انتظام سماجی بہبود مرکز میں افطاری سے قبل جمع ہوتے ہیں۔

ایک ایسا گاوں ، جہاں گزشتہ 15 سالوں سے ایک ہی دسترخوان پر کی جاتی ہے افطاری

گاؤں کے میئر رجب ضویغو کا کہنا ہے کہ گاؤں میں تیس کنبے ہیں اور پورے ماہ صیام کے دوران روزانہ ایک کنبے کو افطاری کے انتظامات اور کھانے بنانے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ اس کے باوجود دوسرے پڑوسی بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔

انہوں نے توقع ظاہر کی مستقبل میں بھی محلے کے تمام افراد اسی طرح شیر وشکر رہیں گے اجتماعی افطاری، اخوت اور بھائی چارے کی فضا برقرار رکھیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اہل محلہ کی اجتماعی افطاری کی برکت ہے کہ یہاں پر کسی کو دوسرے سے کوئی شکوہ نہیں۔ ہم ایک خاندان کے افراد کی طرح ایک دوسرے کے دکھ اور درد میں شریک ہوتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز