ماہ رمضان میں ان چیزوں کا صدقہ کر دیگا آپ کو دنیا کی ہر نعمت سے مالامال

Jun 08, 2018 11:59 AM IST | Updated on: Jun 08, 2018 12:01 PM IST

ماہ رمضان اللہ کا مہینہ ہے اس خوبصورت مہینہ میں بے شمار نعمتوں حاصل ہوتی ہیں۔ اس مہینے کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک چھوٹی سی نیکی بھی بڑے اجر کے حصول کا سبب بن سکتی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ یہ میرا مہینہ ہے اور اس مہینے کے اجر و ثواب بھی میں خود اپنے بندے کو دوں گا

حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر کسی مرے ہوۓ کو واپس دنیا میں آنے کا موقع ملے تو وہ دنیا میں آتے ہی زیادہ سے زیادہ صدقہ کرۓ کیوں کہ اس کو پتہ چل چکا ہوتا ہے کہ صدقہ کا اجر و ثواب کتنا زیادہ ہے ۔ ایک اور حدیث میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ معمولی سے کھجور کی گٹھلی کے برابر صدقہ انسان کو بڑی بڑی مشکلات سےنکالنے کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہ رمضان میں ان چیزوں کا صدقہ کر دیگا آپ کو دنیا کی ہر نعمت سے مالامال

دوسروں کے لیۓ مانگی گئی دعا اپنے حق میں ایک بڑا صدقہ ثابت ہو سکتی ہے۔

جو لوگ تعلیمی اخراجات ادا نہیں کر سکتے ان کے لیۓ تعلیم کا بلا معاوضہ انتظام  بھی صدقے میں شامل ہے۔

اپنے سے چھوٹوں کو اچھی نصیحت کرنا بھی صدقہ جاریہ ہے۔

اپنے کلمہ گو بھائی کی جانب نیک نیتی اور اچھے اخلاق سے دیکھنا بھی صدفہ جاریہ کہلاتاہے

کسی ضرورت مند کی مدد کرنا خواہ وہ مدد کتنی کم کیوں نہ ہو بڑے اجر کا سبب بن سکتی ہے

انسان کی زندگی میں دن رات کی طرح مشکلات اور آسانیاں بھی آتی ہیں ان کا مقابلہ خندہ پیشانی سے کرنا صدقہ ہی ہوتا ہے

کسی دوسرے انسان کے ساتھ اتنے نرم لہجے میں بات کرنا جس سے اس کے دل کو خوشی اور اطمینان حاصل ہو باعث خیر و برکت ہے

اپنے آپ کو برائیوں سےبچانے کی کوشش کرنا بھی بڑے ثواب کا سبب بن سکتا ہے

لوگوں کو اس خیال سے معاف کر دینا کہ اللہ ہمارے گناہوں کو بھی معاف کر دے گا بہت سارے ثواب کا سبب بن سکتا ہے

اپنے سے بڑوں کی عزت کرنا یہاں تک کہ ان کے سامنے بلند آواز میں بات نہ کرنا بھی صدفہ ہے

بیمار کی عیارت کی احادیث میں بہت تاکید کی گئي ہے یہاں تک کہ ہمارے نبی تو کافروں کی بھی عیادت کیا کرتے تھے

راستے میں پڑے ہوۓ پتھر کو اس نیت سے ہٹا نا کہ کسی کو اس سے کوئی تکلیف نہ پہنچ جاۓ صدقہ جاریہ ہے

کسی بھٹکے ہوۓ کو راستہ بتانے میں اگرچے صرف چند لمحے خرچ ہوتے ہیں مگر اس کا ثواب کسی بھی طرح ایک بڑے صدقے سے کم نہیں ہوتا

یہ تمام عمل اگرچہ بظاہر بہت معمولی اور چھوٹے ہیں مگر احادیث سے یہ ثابت ہے کہ ان اعمال کا صلہ اللہ ان اعمال کے چھوٹے بڑے ہونے کی بنیاد پر نہیں کریں گے بلکہ اس کا فیصلہ وہ اعمال کرنے والے کی نیت کے مطابق کریں گے

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز