ترکی ریفرنڈم : طیب ارودغان کی تاریخی جیت ، مخالفین نے کیا چیلنج ، صدر نے کہا : فیصلہ کا احترام ضروری

Apr 17, 2017 02:34 PM IST | Updated on: Apr 17, 2017 02:34 PM IST

انقرہ: ترکی میں ایگزیکٹو صدارتی نظام لائے جانے کے سلسلے میں کرائے گئے ریفرنڈم میں صدرطیب ارودغان کامیاب قرار دئے گئے ہیں جبکہ اپوزیشن پارٹیوں نے ریفرنڈم کے نتائج کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ استنبول میں اپنی سرکاری رہائش گاہ میں مسٹر ارودغان نے کہا کہ ریفرنڈم میں فتح کے بعد حکومت میں فوجی مداخلت کے ترکی کی طویل تاریخ کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں 2.5 کروڑ ووٹ ملے جو کہ ’نا‘ خیمے سے 13 لاکھ ووٹ زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ تاریخ میں پہلی بار ترکی نے اس طرح کی ایک اہم تبدیلی پر پارلیمنٹ اور لوگوں کی خواہش جاننے کی کوشش کی ہے۔ ترکی جمہوریہ کی تاریخ میں پہلی بار ہم شہری حکومت کے ذریعے ہمارے حکمرانی کے نظام کو تبدیل کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بہت اہم ریفرنڈم ہے۔ وہیں اہم اپوزیشن ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کے سربراہ كمال كلك ڈاروگلو نے کہا کہ ریفرنڈم کی قانونی حیثیت مشکوک ہے اور جن لوگوں نے ’ہاں‘ ووٹ کی حمایت کی ہے ایسا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے قانون کی حدود سے باہر جا کر ریفرنڈم کی حمایت کیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کو جب یہ پتہ چلا تھا کہ بغیر مہر لگے ووٹ کی گنتی ہو رہی ہے تو ہم نے پہلے ہی 60 فیصد ووٹوں دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس نتیجے کے بعد بے لگام قیادت میں میں اضافہ ہوگا۔

ترکی ریفرنڈم : طیب ارودغان کی تاریخی جیت ، مخالفین نے کیا چیلنج ، صدر نے کہا : فیصلہ کا احترام ضروری

ادھر طیب ارودغان نے کہا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں سمیت سب کو ریفرنڈم کے نتائج کا احترام کرنا چاہیے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی کے لوگوں نے ’ہاں‘ کے حق میں ووٹ دیا ہے جس کا مطلب ہے لوگ ملک میں ایگزیکٹو صدر سے متعلق آئینی تبدیلیاں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ حامیوں کا خیال ہے کہ ریفرنڈم میں فتح کے بعد ملک جدیدکاری کی سمت میں آگے بڑھے گا وہیں اپوزیشن پارٹیاں ریفرنڈم کے ووٹوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کر رہے رہیں۔ مخالفین کا خیال ہے کہ ملک میں اس سے بے لگام قیادت کو فروغ مل سکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ریفرنڈم میں فتح حاصل کرنے کے بعد مسٹرارودغان اب نئے قوانین کے تحت زیادہ سے زیادہ 2029 تک صدر رہ سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں صدر کی طاقتیں کافی بڑھ جائیں گی۔ صدر کے پاس کابینہ وزراء کو مقرر کرنے، سینئر ججوں کو منتخب کرنے اور پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا حق ہوگا۔ نئے نظام کے تحت وزیر اعظم کے عہدے کو ختم کر دیا جائے گا اور ساری طاقتیں صدر کے ہاتھوں میں دے دی جاےگي ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز