میانمار فوج کے منظم حملوں پر تفصیلی رپورٹ جاری ، روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم کے بہ کثرت شواہد

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سکیورٹی فورسز اور بدھ مت بلوائیوں کی تشدد آمیز کارروائیوں کے مزید ناقابل تردید شواہد سامنے آئے ہیں۔

Nov 17, 2017 12:00 AM IST | Updated on: Nov 17, 2017 12:01 AM IST

واشنگٹن : میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سکیورٹی فورسز اور بدھ مت بلوائیوں کی تشدد آمیز کارروائیوں کے مزید ناقابل تردید شواہد سامنے آئے ہیں۔امریکا میں قائم ہولو کاسٹ میوزیم اور جنوب مشرقی ایشیا میں قائم ’’حقوق کا تحفظ‘‘ (فورٹیفائی رائٹس) نامی تنظیم نے گذشتہ سال 9 اکوابر سے دسمبر اور اس سال 25 اگست کے بعد روہنگیا مسلمانوں کے خلاف برمی سکیورٹی فورسز کے منظم حملوں کی ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار روہنگیا مسلمانوں کے گلے کاٹ رہے ہیں اور انھیں زندہ جلا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق میانمار کی سرکاری سکیورٹی فورسز اور (بدھ مت) شہریوں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف حملوں کے دو ادوار میں انسانیت کے خلاف جرائم اور نسلی تطہیر کا ارتکاب کیا ہے اور اس بات کے بہ کثرت شواہد موجود ہیں کہ ان کارروائیوں کے ذریعے روہنگیا آباد ی کی نسل کشی کی گئی ہے‘‘۔ 30 صفحات کو محیط اس رپورٹ کا عنوان ’’ انھوں نے ہم سب کو قتل کرنے کی کوشش کی‘‘ ہے۔یہ برمی فورسز کے حملوں میں زندہ بچ جانے والے روہنگیا مسلمانوں، عینی شاہدین اور بین الاقوامی امدادی کارکنان کے 200 سے زیادہ انٹرویوز پر مبنی ہے۔

میانمار فوج کے منظم حملوں پر تفصیلی رپورٹ جاری ، روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم کے بہ کثرت شواہد

روہنگیا مہاجرین ۔ فائل فوٹو

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’سرکاری سکیورٹی فورسز نے روہنگیا شہریوں کے خلاف زمینی اور فضائی حملے شروع کردیے تھے۔انھیں بری فوج گولیوں سے چھلنی کررہی تھی تو فضائیہ اوپر سے بمباری کا نشانہ بنا رہی تھی۔فوجیوں اور چاقو بردار ( بد ھ مت) شہریوں نے روہنگیا مردوں ، عورتوں اور بچوں کو گلے کاٹ کاٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا‘‘۔ اجتماعی مظالم کا یہ سلسلہ یہیں پر نہیں رُکا بلکہ روہنگیا مرد وخواتین،بوڑھے اور جوانوں کو زندہ جلایا جاتا رہا ہے۔ فوجیوں نے روہنگیا عورتوں اور لڑکو ں کی انفرادی اور اجتماعی عصمت ریزی کی۔مردوں اور لڑکوں کو اجتماعی طور پر گرفتار کیا گیا ہے اور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ دونوں تنظیموں کے تحقیقات کاروں نے راکھین اور بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان واقع سرحدی علاقے کا دورہ کیا ہے۔انھوں نےاگست میں تین دیہات میں اجتماعی قتلِ عام سے متعلق عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔رپورٹ میں ایک جگہ برمی فوج کے سفاکانہ اور انسانیت سوز مظالم کی داستان ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ ’’ جب روہنگیا کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارنے کا عمل مکمل ہوجاتا تو فوجی لاشوں کو ایک جگہ جمع کرتے اور پھر انھیں آگ لگا دیتے تھے۔برمی فوجیوں نے صرف ایک حملے میں سیکڑوں افراد کو ہلاک کردیا تھا‘‘۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز