سعودی عرب میں سنیما کی واپسی: ’ اس فیصلہ سے ہمیں عید کی خوشی کا احساس ہوتا ہے‘۔

Dec 12, 2017 03:31 PM IST | Updated on: Dec 12, 2017 03:32 PM IST

ریاض۔ سعودی عرب کی وزارت برائے ثقافت و اطلاعات نے مملکت میں سنیما گھر کھولنے کی اجازت دیدی ہے۔ اس اجازت کو حالیہ مدت میں کئے جانے والے متعدد اقدامات میں سے ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے۔  گزشتہ پیر کے روز سعودی حکومت نے ایک تحریری بیان میں بتایا ہے کہ اگلے برس مارچ میں ملک میں پہلا سینما گھر کھول دیا جائے گا اور سنہ 2030 تک ملک بھر میں 300 سے زائد سینما ہاؤسز اور 2000 سے زائد سکرینز ہوں گی۔ اس سے پہلے مملکت توحید میں 35 برس قبل سنیما گھر ہوا کرتے تھے لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ سنیما گھر کھولنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ اس پر عائد پابندی کو بحال کرنا ہے۔

عرب نیوز ڈاٹ کام نے اس فیصلہ کو سعودی تاریخ میں سنگ میل قرار دیا ہے اور اس نے مملکت کے فلم سازوں، پروڈیوسروں اور فلموں میں دلچسپی لینے والوں کے بیانات نقل کئے ہیں جن میں اس فیصلہ پر بے انتہا خوشی ظاہر کی گئی ہے۔ سعودی سوسائٹی فار کلچر اینڈ آرٹس کے ڈائریکٹر عرب نیوز ڈاٹ کام کے ساتھ بات چیت میں کہتے ہیں کہ اب ہم اپنے پرانے دور میں واپسی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ماضی میں مملکت میں فلمیں دکھائی گئی ہیں، لیکن اب ہم پہلے کے مقابلہ زیادہ ترقی یافتہ اور زیادہ منظم ہو گئے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے پورے کنبہ کے لئے ایک بہت بڑا ثقافتی اور تفریحی تجربہ ہو گا۔ ماضی میں فلمیں دیکھنے کے لئے ہم دبئی اور بحرین کا سفر کیا کرتے تھے لیکن اب ہم اپنے ملک کے مخلتف شہروں ریاض، جدہ اور دمام وغیرہ میں بھی فلمیں دیکھ سکتے ہیں۔

سعودی عرب میں سنیما کی واپسی: ’ اس فیصلہ سے ہمیں عید کی خوشی کا احساس ہوتا ہے‘۔

سعودی شہری بیس اکتوبر دو ہزار سترہ کو ریاض میں کنگ فہد کلچر سینٹر میں شارٹ فلم دیکھنے کے لئے جاتے ہوئے۔ فوٹو، اے ایف پی۔

وہیں، سعودی فلم ساز اور پروڈیوسر عبداللہ قریشی اس پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جیسے ہی یہ خبر آئی ، ہم سعودی فلم ساز، پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور ایکٹرز ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے اور مبروک کہنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے ہمیں عید کی خوشی کا احساس ہوتا ہے۔

دوسری طرف، بی بی سی نے گذشتہ 26 برس سے سعودی فلم اور ٹی وی سے وابستہ اداکارہ شیریں باوزیر سے اس سلسلہ میں بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ جب  میں نے یہ خبر سنی تو مجھے یقین نہیں آیا اور تصدیق کے لیے میں نے اپنی دوست سے رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ'مجھے یاد ہے کہ ستر کی دہائی تک یہاں سینما موجود تھا لیکن وہ صرف مردوں کے لیے تھا۔ لیکن محلے کی سطح پر کسی ایک گھر میں بڑی اسکرین کا اہتمام کیا جاتا تھا اور پھر ہم بھی فلم دیکھ سکتے تھے۔ مگر اب سب کچھ بدل چکا ہے۔ ڈی وی ڈی کی بجائے اب ہم ٹی وی پر مختلف فلمیں دیکھ سکتے ہیں اور انٹرنیٹ تک بھی رسائی ہے۔'

سعودی میڈیا اور فلم انڈسٹری سے وابستہ سمیرہ عزیز کہتی ہیں کہ سینما ثقافتی تبادلے کا اہم ذریعہ ہیں، اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے ترقی کرنی ہے تو جلدی کرنا ہوگی۔ بی بی سی نے  سعودی عرب کی پہلی فلم ڈائریکٹر ھیفاء المنصور کا قول بھی نقل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے  کہ سعودی عرب کے لیے آج ایک خوبصورت دن ہے۔ میں بہت خوش ہوں یہ بہت حیران کن ہے۔ سعودی فلموں کو اب اپنے گھر واپسی کے لیے جگہ مل گئی ہے۔'

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز