بنگلہ دیش روہنگیائی مسلمانوں کی مدد اپنے دوست ممالک پر انحصار کیے بغیر جاری رکھے گا: بنگلہ دیشی وزیر

Sep 18, 2017 10:33 PM IST | Updated on: Sep 18, 2017 10:33 PM IST

ڈھاکہ : بنگلہ دیش کے نائب وزیر خارجہ مد شہریر عالم نے آج کہا ہے کہ ان کی حکومت روہنگیائی بحران کو حل کرنے کیلئے اہم تجاویز دیے ہیں مگر میانمار حکومت نے ان تجاویزپر مثبت جواب نہیں دیا ہے ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے تمام دوست ممالک کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی بنیادی ان ممالک نے ہماری مدد کیلئے پیش کش کی اور ہاتھ آگے بڑھایا۔

بنگلہ دیش کے وزیر نے تاہم کہا کہ ان کاملک کسی دوسرے ملک کی مدد پر منحصر نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ 8سے 9ممالک ہماری مدد کیلئے ہاتھ آگے بڑھا یا۔مگر ہم ان پر انحصار کیے بغیر روہنگیائی شہریوں کی مدد کیلئے پیش قدمی کی اور ہماری وزیر اعظم شیخ حسینہ نے بھی کہا کہ روہنگیائی رفیوجیوں کی مدد کیلئے ہم اپنے تمام وسائل کا استعمال کریں گے ۔

بنگلہ دیش روہنگیائی مسلمانوں کی مدد اپنے دوست ممالک پر انحصار کیے بغیر جاری رکھے گا: بنگلہ دیشی وزیر

انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے سیکورٹی کے خطرات بھی ہیں ۔ماضی میں ہمیں دشواریا لاحق ہوچکی ہیں اس لیے ہم نے شروعاتی دور میں تردد کا مظاہرہ کیا تاہم بنگلہ دیش حکومت نے انسانی بنیاد پر روہنگیائی رفیوجی کیلئے اپنے دروازے کھول دیے ہیں اورہ م نے روہنگیائی شہریوں کا رجسٹریشن شروع کردیا ہے ۔ مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ روہنگیائی شہریوں کیلئے مختص کیے گئے کوکس بازارضلع سے باہر کوئی بھی روہنگیائی نہ جائیں ۔اس کو یقینی بنایا جائے۔

بنگلہ دیشی وزیر کے مطابق برماکی ریاست راکھین میں تشدد کے واقعات شروع ہونے کے بعد سے 9اکتوبر 2016سے اب تک کل 8,00,000 روہنگیائی شہری بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں ۔اس سے قبل سنیچر کو بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ اقوام متحدہ کی 72ویں سیشن میں شرکت کیلئے نیویارک روانہ ہوچکی ہیں ۔انہوں نے اقوام متحدہ میں روہنگیا کے بحران کے ایشو کو اٹھانے کا منصوبہ بنارکھا ہے ۔وہ اپنی تقریر میں کوفی عدنان کی قیادت والی کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کی بھی پرزور وکالت کریں گی۔شیخ حسینہ 21ستمبر کو اقوام متحدہ میں خطاب کریں گی اور اپنی تقریر میں عالمی لیڈروں سے روہنگیائی مسلمانوں کے قتل عام کے سلسلے کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے کی اپیل کریں گی ۔

کوکس بازار اور تکناف سرحد کے قریب روہنگیائی شہریوں کو پناہ دیا گیا ہے ۔مگر یہاں کھانے کی اشیاء، دوائیوں اور دیگر ضروریاتی اشیائی کی شدید قلت ہے ۔اقوام متحدہ کی رفیوجی ایجنسی کے یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق میانمار کی شمالی ریاست راکھین کے تشدد زدہ علاقے سے فرار ہوکر اب تک کل4,00,000رفیوجی بنگلہ دیش میں آچکے ہیں مگر انہیں پناہ دینے کی بہت ہی محدود جگہ ہے اور یہ پہلے سے ہی بھر چکا ہے ۔تقریبا 350,000رفیوجی کھلے آسمان کے نیچے رہنے پر مجبور ہیں ۔ڈائریاسمیت دیگر موسمی بیماریوں سے یہ لوگ متاثر ہیں ۔نہ انہیں صاف پینے کا پانی مل رہا ہے اور نہ ہی برابر دوائیاں مل رہی ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز