پناہ گزینوں کے بحران پربنگلہ دیش نے دی میانمارکو یہ سخت وارننگ

Sep 16, 2017 01:11 PM IST | Updated on: Sep 16, 2017 02:43 PM IST

ڈھاکہ۔  بنگلہ دیش نے مسلسل اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کا میانمارپر الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اکسانے والی کوئی اور حرکت کی تو اسے غیر متوقع نتائج کا سامنا کرنا پڑیگا۔ بنگلہ دیش کے سرکاری ذرائع نے بتایا کہ میانمار کے ڈرون طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے 10، 12 اور 14 ستمبر کو فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ڈھاکہ میں میانمار سفارتخانے کے اعلی حکام سے اس کی شکایت کی ہے ۔ اگر میانمار نے اپنی اکسانے والی حرکتیں بند نہیں کیں تو پھر اسے غیر متوقع نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میانمار حکومت کے ترجمان جاں تے نے بتایا کہ انھیں ان واقعات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے جن کے بارے میں بنگلہ دیش شکایت کررہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش کی طرف سے میانمار کو فراہم کی گئیں معلومات کی جانچ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میانمار اور بنگلہ دیش دونوں پناہ گزینوں کے بحران کا سامنا کررہے ہیں۔ ایسے میں ہمیں باہمی سمجھ بوجھ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ میانمار میں گزشتہ 25 اگست کو بھڑکے تشدد کے بعد سے بنگلہ دیش میں تقریبا 4 لاکھ روہنگیا نے پناہ لی ہے اور چار لاکھ سے زائد پناہ گزین پہلے سے ہی یہاں رہ رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں دہائیوں سے روہنگیا پناہ گزیں آتے ر ہے ہیں جنھیں میانمارمیں غیر قانونی تارکین وطن سمجھا جاتا ہے اور شہریت نہیں دی جاتی ہے۔

پناہ گزینوں کے بحران پربنگلہ دیش نے دی میانمارکو یہ سخت وارننگ

رائٹرز

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ہائی کمشنر کے دفتر کے ترجمان آندریزموہیسس نے اس پناہ گزین بحران کو حالیہ برسوں میں سب سے بڑا بحران بتاتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں پناہ لے رہے لاکھوں روہنگیا لوگوں کی حالت قابل رحم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں ایک بنگلہ دیش پہلے ہی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کا سامنا کر رہا ہے اور اتنی بڑی تعداد میں روہنگیا پناہ گزینوں کے وہاں پہنچنے سے حالات مزید خراب ہوگئے ہیں ۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گتریش اور سلامتی کونسل نے میانمار سے تشدد کے خاتمے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے اسے نسلی صفایا قرار دیا ہے، اگرچہ میانمارنے ان الزامات کو مسترد کرتے کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی سیکورٹی فورسز صرف دہشت گردوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ فوج کا بھی کہنا ہے کہ اس کی کارروائی صرف روہنگیا انتہا پسندوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے عام لوگوں کو نشانہ بنانے کے الزام سے انکار کر دیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز