میانمار انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب: ہیومن رائٹس واچ

ینگون۔ حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے منگل کے روز میانمار کو راخین میں مسلم باغیوں کے خلاف کارروائی کے نام پر انسانیت کے خلاف جرائم میں مرتکب ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اس کے خلاف کثیر جہتی پابندیوں کے ساتھ ہی اسلحہ کی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔

Sep 26, 2017 07:27 PM IST | Updated on: Sep 26, 2017 07:30 PM IST

ینگون۔ حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے منگل کے روز میانمار کو راخین میں مسلم باغیوں کے خلاف کارروائی کے نام پر انسانیت کے خلاف جرائم میں مرتکب ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اس کے خلاف کثیر جہتی پابندیوں کے ساتھ ہی اسلحہ کی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں صاف طورپر کہا کہ مصدقہ ذرائع اور سٹیلائٹ کی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ میانمار انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرچکا ہے، جس کے لئے اس پر سخت پابندیاں عائد ہونی چاہئيں۔ میانمار حکومت کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے خلاف جرائم کا پختہ ثبوت نہیں ہے اور حکومت حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے پابند عہد ہے۔ اس سے قبل میانمار نے اقوام متحدہ کے اس بیان کو بھی مسترد کردیا ہے، جس میں عالمی ادارہ نے میانمار حکومت کی کارروائی کو ' منظم نسل کشی' قرار دیا ہے۔

میانمار حکومت کا کہنا ہے کہ فوج ان باغی حملہ آوروں کے خلاف جنگ لڑرہی ہے جو پولس اور فوجی اہلکاروں پر حملے کررہے ہيں ، شہریوں کو قتل کرتے ہیں اور بستیوں کونذر آتش کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ 25 اگست کو اراکان روہنگیا سلویشن آرمی کے باغیوں کی طرف سے پولس چوکیوں پر بڑے حملے کے بعد راخین میں فوج کی وحشیانہ کارروائی 'کلیئرینس آپریشن' میں معصوم شہریوں پر انسانیت سوز مظاہم اور تشدد کی وجہ سے تقریبا ساڑھے چارلاکھ روہنگیا افراد اپنی جان بچا کر بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہيں۔ پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج اور بدھسٹ حملہ آور روہنگیا آبادی کو ملک سے بھگانے کے لئے وحشیانہ تشدد کررہے ہیں اور ان کی بستیوں کو آگ لگا رہے ہيں اور معصوم شہریوں ، خواتین او ر بچوں کو قتل کررہے ہیں۔

میانمار انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب: ہیومن رائٹس واچ

بنگلہ دیش کے تیکناف میں بنگلہ دیش۔ میانمار سرحد پار کرتے وقت ایک ندی میں کشتی کے ڈوب جانے سے ہلاک ہوجانے والے اپنے چالیس دن کے بچے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھامے ہوئے ایک روہنگیا پناہ گزیں آہ و بکا کرتا ہوا: فائل فوٹو، رائٹرز۔

ہیومن رائٹس واچ کے قانونی و پالیسی ڈائریکٹر جیمس راس نے کہا کہ میانمار کی فوج 'کلیئرینس آپریشن' کے تحت راخین سے روہنگیا آبادی کو بے رحمی سے نکال باہر کررہی ہے۔ فوج کی کارروائی میں بستیوں میں قتل عام کیا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر گاؤں میں آتشزنی کی گئی ہے، جو واضح طورپر انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے مطابق ایسے تمام جرائم انسانیت کے خلاف جرائم شمار ہوتے ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر منظم حملے کے تحت شہری آبادی کو قتل، عصمت دری، تشدد، ظلم و زیادتی کے ذریعہ در بدر ی، اقدام قتل کا نشانہ بنایا جائے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ اس نے جرائم کی تحقیقات میں ذرائع کے علاوہ سٹیلائٹ کی تصاویر کا جائزہ لیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ شہری آبادی پر وحشیانہ تشدد، دربدری، دیہی آبادی کی نقل مکانی، اجتماعی قتل ، عصمت دری اور دیگر جنسی زیادتی کے جرائم کا بڑے پیمانے پر ارتکاب ہوا ہے۔

تیکناف میں بنگلہ دیش۔ میانمار سرحد پار کرنے کے بعد روہنگیا پناہ گزیں غذائی اشیا لینے کے لئے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے: فائل فوٹو، رائٹرز۔ تیکناف میں بنگلہ دیش۔ میانمار سرحد پار کرنے کے بعد روہنگیا پناہ گزیں غذائی اشیا لینے کے لئے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے: فائل فوٹو، رائٹرز۔

تنظیم نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر متعلقہ ممالک کو فوری طورپر میانمار کے خلاف ٹارگٹ پابندیاں لگانی چاہئے اور اسلحہ پابندی سخت کرنی چاہئے۔

دریں اثناء، فوج نے اتوار سے اب تک میانمار کی اقلیتی ہندو برادری کے 45 افراد کی لاشیں برآمد کی ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا ہےکہ انہيں روہنگیا باغیوں نے قتل کیا ہے۔ جبکہ دوسری طرفہ اراکان روہنگیا سلویشن آرمی نے صرف سکیورٹی فورس اور پولس پر حملے کا دعوی کیا ہے اور اپنے حملے میں دیہی باشندوں کے قتل سے انکار کیا ہے۔ سیکڑوں کی تعداد میں ہندو اقلیتی برادری کے افراد بھی بنگلہ دیش پہنچے ہيں، جن کا کہنا ہے کہ فوجی دستے اور بدھسٹ حملہ آور ان کے خلاف پرتشدد حملے کررہے ہيں۔ پرتشدد کارروائی سے جان بچا کر بہت سارے ہندو افراد نے میانمار کے شہری علاقوں میں پناہ لی ہے، جن کو روہنگيا باغیوں نے حکومت کے لئے جاسوسی کرنے کے شبہ میں تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز