میانمار کی فوج اور حکومت کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جائيں: ہیومن رائٹس واچ

Sep 18, 2017 03:51 PM IST | Updated on: Sep 18, 2017 04:15 PM IST

رنگون۔  بین الاقوامی حقوق انسانی تنظیم' ہیومن رائٹس واچ نے میانمار کی فوج اور حکومت پر مخصو ص پابندیاں لگانے اورمیانمار کو ہتھیار برآمد کرنے کے خلاف سخت اقدامات شروع کرنے کا مطالبہ کیا، جہاں اقوام متحدہ کے بقول نسل کشی اور فوج کے وحشیانہ تشدد سے چار لاکھ دس ہزار افراد بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہيں۔ عالمی تنظیم نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے کہا کہ "اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور متعلقہ ممالک کو میانمار کی فوج کے خلاف ہدف بند پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ ہتھیاروں کی سپلائی پر پابندی عائد کرنے کے لئے فوری اقدامات کرنے چاہئے۔

جنوبی میانمار میں جاری تشدد کی وجہ سے تقریبا 4 لاکھ 10 ہزار روہنگیا پناہ گزین گزشتہ 25 اگست سے اب تک بنگلہ دیش میں داخل ہوئے ہيں، جو نسلی امتیاز ختم کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ میانمار فوج کی تازہ کارروائی 25 اگست کو روہنگيا باغیوں کے حملے کے بعد شروع ہوئی ہے، جس میں 12 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ فوج کی کارروائی کے تحت تشدد کو اقوام متحدہ نے نسل کشی کی کارروائی قرار دیا ہے۔

میانمار کی فوج اور حکومت کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جائيں: ہیومن رائٹس واچ

روہنگیا مسلمان: رائٹرز۔

حقوق انسانی کے کارکن اور راخین سے فرار ہونے والے روہنگیا پناہ گزینوں نے بتایا کہ میانمار فوج اور راخین میں بدھسٹ کارکنوں کی کارروائی میں صرف تشدد ، قتل عام، عصمت دری اور آگ زنی کی گئی ہے ، جو روہنگیا مسلم آبادی کو میانمار سے نکال باہر کرنے کے مقصد سے کی گئی ہے۔

عالمی حقوق انسانی کی تنظیم کا کہنا ہے کہ میانمار کی سکیورٹی فورس جان بوجھ کر عالمی لیڈروں کی مذمت کی کوئي پرواہ نہيں کررہی ہے اور کھلے عام نہتے عوام پر وحشیانہ تشدد میں ملوث ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں پناہ گزینوں کے فرار ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ تشدد کاسلسلہ جاری ہے، جس کے پیش نظر اب وقت آچکا ہے کہ میانمار فوج کے خلاف سخت ترین پابندیاں لگائی جائيں، تاکہ اس کے افسران انہيں نظر انداز نہ کرسکیں۔ حقوق انسانی تنظیم نے اپنی ریلیز میں کہا کہ" اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر متعلقہ ممالک کو فوری طورپر میانمار حکومت کے خلاف ہد ف بند پابندیاں لگانے اور میانمار فوج کو ہتھیاروں کی سپلائی بند کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئے، تاکہ جنوبی میانمار میں نسل کشی کی مہم کو بند کیا جاسکے"۔

میانمار کی لیڈر آنگ سان سوکی روہنگیا بحران پر قوم سے اپنا پہلا خطاب منگل کے روز کرنے والی ہیں۔ دریں اثناء، امریکہ نے میانمار میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ پیٹرک مورفی اسی ہفتہ میانمار کا دورہ کرنے والے ہيں۔ وہ راخین کی راجدھانی ستوے جائيں گے ،جہاں وہ سرکاری حکام اور روہنگیا سمیت مختلف اقلیتی طبقات کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ تاہم، وہ شمالی راخین کے تشدد زدہ علاقوں میں نہيں جائیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز