ہندوستان نے روہنگیا پناہ گزینوں کی ملک بدری معاملے میں اقوام متحدہ کی مخالفت کو کیا مسترد

Sep 13, 2017 08:52 AM IST | Updated on: Sep 13, 2017 08:52 AM IST

نئی دہلی / جنیوا۔ میانمار سے ہندوستان آنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کے معاملے میں ہندوستان کے موقف کی مذمت کرنے سے متعلق اقوام انسانی حقوق کونسل کے سربراہ زید رعد الحسین کے بیان کو یہ کہہ کر سختی سے مسترد کردیا گیا کہ حقوق انسانی کی پیمائش کسی سیاسی مفاد یا سہولت کا مسئلہ نہيں ہونی چاہئے۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کونسل کے سربراہ نے اپنے بیان میں روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے میں ہندوستان کے موقف کی تنقید کی ہے۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے راجیو کے چندر نے انسانی حقوق کے سربراہ کے بيان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی پیمائش سیاسی نقطہ نظر یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر نہیں ہو سکتی ہے اور ان کا یہ بیان کافی حیران کن ہے۔

انهوں نے کہا کہ "کچھ منتخب رپورٹوں اور غلط اطلاعات کی بنیاد پر اس طرح کے جانبدار فیصلے کسی بھی معاشرے میں انسانی حقوق کی سمجھ کو پروان نہيں چڑھاتے ہیں اور ہندوستان غیر قانونی تارکین وطن کے قیام کے معاملے میں پہلے ہی کافی فکر مند ہے۔ اس خدشہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ سلامتی سے متعلق چیلنج پیدا کر سکتے ہیں اور قانون پر سختی سے عمل کرنے کی بات کو جذبے کی کمی نہیں مان لیا جانا چاہئے"۔  انہوں نے کہا کہ چند انفرادی واقعات کو اس طورپر پیش کیا جار ہا ہے، جیسے وسیع پیمانے پر معاشر تی بدترصورتحال پیدا ہوگئي ہو۔ ہندوستان کو اپنی آزاد عدلیہ، آزاد پریس، ترقی پسند سول سوسائٹی اور قانون کی حکمرانی کے تئيں احترام پر فخر ہے۔

ہندوستان نے روہنگیا پناہ گزینوں کی ملک بدری معاملے میں اقوام متحدہ کی مخالفت کو کیا مسترد

برما میں روہنگیا مسلمانوں کی تقریبا 40 لاکھ کی آبادی تھی۔ قتل عام میں تقریبا ایک لاکھ لوگوں کو مار دیا گیا۔ فوٹو، رائٹرز۔

جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کے بیان پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے مسٹر چندر نے کہا کہ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ دہشت گردی کے مرکزی کردار کو ایک بار سے نظر انداز کر دیا گیا اور انسانی حقوق کی پیمائش سیاسی نقطہ نظر سے نہیں کیا جانا چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز