روہنگیا میانمار کے شہری نہیں، میڈیا میں مظالم کی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا: فوج

Oct 12, 2017 06:40 PM IST | Updated on: Oct 12, 2017 06:40 PM IST

ینگون۔ میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ روہنگیا میانمار کے بنیادی شہری نہیں ہیں اور میڈیا میں ان پر مظالم کی بات کو بہت زیادہ بڑھا چڑھاکر پیش کیا جارہا ہے۔ میانمار فوج کے سربراہ نے امریکی سفیر کو بتایا کہ فوج نے ان پر کوئی ظلم نہیں کئے ہیں اور اس طرح کے واقعات کو بہت غلط طریقےسے پیش کیا جارہا ہے۔فوجی سربراہ نے اس ملاقات کی پوری معلومات اپنے فیس بک پیج پر دیتے ہوئے کہا کہ روہنگیا کو ’بنگالی‘کہا جاتا ہےاور اس مسئلہ کے لئے برطانوی سامراج کی پالیسی ہی ذمہ دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی طور میں ان لوگوں کو میانمار میں پناہ دی گئی تھی اورجہاں تک ریکارڈ کا سوال ہے تو یہ لوگ میانمار کے بنیادی شہری بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا’’یہ لوگ میانمار کے بنیادی شہری نہیں ہیں اور برطانوی دستاویز میں واضح طورپر صرف بنگالی ہی کہا گیا ہے اور کہیں بھی روہنگیا لفظ کا ذکر نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق دفتر نے کل کہا تھا کہ میانمار کے سکیورٹی دستوں نے شمالی راکھینے ریاست سے لاکھوں روہنگیا لوگوں کو وحشیانہ طریقے سے باہر نکال دیا ہے،ان کے گھروں کو آگ لگا دی گئی ہے اور فصلیں تباہ کردی گئی ہیں۔ انہیں واپس جانے سے بھی روکا جارہا ہے۔

روہنگیا میانمار کے شہری نہیں، میڈیا میں مظالم کی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا: فوج

میانمار کے کمانڈر ان چیف سینئر جنرل من آنگ ہلنگ کی فائل فوٹو۔ رائٹرز۔

اس رپورٹ میں تقریباً 65روہنگیا لوگوں کے حوالے سے کہا گیا کہ ان پر ظلم کے واقعات 25اگست سے پہلے ہی شروع ہوچکے تھے اور اس طبقے کے لوگوں کے قتل کئے گئے ہیں اور خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے گزشہ ماہ ان واقعات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میانمار اسے بہت ہی وحشیانہ اور مسلسل مہم کے ذریعہ اقلیتی طبقے کا صفایا کئے جارہا ہے۔ میانمار کے فوجی رہنماؤں اور افسروں کے خلاف یوروپی یونین اور امریکہ کے خلاف ہدف شدہ پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز