روہنگیا بحران پر آنگ سان سوکی کا خطاب، عالمی دباؤ میں نہيں آئے گا میانمار

نپئی تا۔ روہنگیا کمیونٹی کے لوگوں کے خلاف جاری پرتشدد کارروائی پر چوطرفہ تنقید کا سامنا کر نے والی میانمار کی اسٹیٹ کونسلر آنگ سان سو کی نے اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے آج قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا ملک ایسی تنقید سے ڈرنے والا نہیں ہے اور کسی بھی صورت میں ملک کی سلامتی سے سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Sep 19, 2017 11:55 AM IST | Updated on: Sep 19, 2017 01:17 PM IST

نپئی تا۔ روہنگیا کمیونٹی کے لوگوں کے خلاف جاری پرتشدد کارروائی پر چوطرفہ تنقید کا سامنا کر نے والی میانمار کی اسٹیٹ کونسلر آنگ سان سو کی نے اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے آج قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا ملک ایسی تنقید سے ڈرنے والا نہیں ہے اور کسی بھی صورت میں ملک کی سلامتی سے سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیا بحران پر وہ عالمی دباؤ میں نہيں آئیں گی اور ان کی حکومت ملک کے استحکام اور قانون کی حکمرانی کے لئے پابند عہد ہے۔

محترمہ سو کی نے کہا کہ میانمار نے راخین میں امن قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن روہنگیا کمیونٹی لوگوں نے پولس چوکیوں اور بے گناہ لوگوں پر حملے کئے۔ میانمار دہشت گردی سے لڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے گھر ہونے والے لوگوں کے لئے ہمیں دکھ ہے اور فوج کی کارروائی کے دوران اگر کسی طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی جانچ کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجرم لوگوں کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جائے گی۔ آنگ سان سوکی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لئے اپنا دورہ منسوخ کردیا ہے، جہاں روہنگیا بحران پر بحث چل رہی ہے۔ انہوں نے قومی سطح پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں کہا کہ "میانمار حکومت کا ارادہ کسی بھی طرح تنقید سننے کا نہیں ہے اور نہ ہی ہم ذمہ داری سے ہاتھ کھینچ رہے ہيں۔ ہم اپنے ملک میں ہر طرح کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور غیر قانونی تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔

روہنگیا بحران پر آنگ سان سوکی کا خطاب، عالمی دباؤ میں نہيں آئے گا میانمار

آنگ سان سو کی نے کہا کہ میانمار نے راخین میں امن قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن روہنگیا کمیونٹی لوگوں نے پولس چوکیوں اور بے گناہ لوگوں پر حملے کئے۔: رائٹرز۔

محترمہ سوکی نے کہا کہ "ہم پورے ملک میں امن و استحکام اور قانون کی حکمرانی بحال کرنے کے لئے پابند عہد ہيں"۔ ملک بھر سے بھگائے جا رہے روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پر محترمہ سو کی نے کہا کہ 70 سال سے ملک کو امن و استحکام کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ راخین میں امن قائم کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس کی قیادت کے لئے اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان کو مدعو کیا گیا ہے۔ جنوبی میانمار کے راخین میں گزشتہ 25 اگست سے شروع ہونے والی پر تشدد کارروائی کے بعد سے اب تک تقریبا چار لاکھ سے زیادہ روہنگیا عوام بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہيں، جہاں اراکا ن روہنگیا سلویشن آرمی کے حملے میں 12 لوگوں کی موت کے بعد میانمار فوج کی پرتشدد کارروائی اب بھی جارہی ہے۔ پرتشدد کارروائی پر محترمہ سوکی کا یہ پہلا باقاعدہ بیان آیا ہے، جس کو سننے کے لئے آج صبح کثیر تعداد میں لوگ رنگون اور دوسرے شہروں میں بڑی ٹی وی اسکرین کے سامنے کھڑے نظر آئے۔

ایک طرف حقوق انسانی کی تنظیموں اور متعدد ممالک نے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور مظلوم روہنگیا آبادی کی طرف سے آواز اٹھانے کے لئے اپنے عہدے کا استعمال کرنے میں ناکام رہنے پر آنگ سان سوکی شدید تنقید کی ہے، تو دوسری طرف چین نے قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے میانمار حکومت کی کوششوں اور راخین میں پرتشدد واقعات کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کی ہے۔ روہنگيا آبادی کےخلاف بڑے پیمانے پر فوج کی وحشیانہ کارروائی کے پیش نظر اقوام متحدہ کو اسے 'منظم نسل کشی' کا نام دینا پڑا ہے، کیونکہ اس کارروائی میں بڑے پیمانے میں قتل عام ہوا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزياں کی گئی ہيں۔ گزشتہ ہفتہ ہندوستان نے راخین کی صورتحال سے آپسی مفاہمت سے نمٹنے اور شہری آبادی کے ساتھ ہی فوج کی بہبود پر توجہ دینے کو کہا تھا۔

روہنگیا پناہ گزیں: فائل فوٹو۔ روہنگیا پناہ گزیں: فائل فوٹو۔

ہندوستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر سید معظم علی نے 9 ستمبر کو ہندوستان کے خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر سے ملاقات کرکے روہنگيا پناہ گزینوں کے مسئلے پر اپنے ملک کے موقف کی وضاحت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کثیر تعداد میں پناہ گزینوں کے آنے سے بنگلہ دیش کے لئے مشکلات پیدا ہورہی ہيں۔ بنگلہ دیش میں روہنگیا آبادی کو پناہ دیا گیا ہے، لیکن اس میں بین الاقوامی برادری کی مدد کی ضرورت ہے۔ عالمی براردری کو آگے آنا چاہئے اور روہنگیا بحران کو حل کرنے کے لئے میانمار پر دباؤ ڈالنا چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز