روہنگیا پناہ گزیں میانمار واپس لوٹ سکتے ہیں: میانمار کے مرکزی وزير

Oct 03, 2017 08:16 AM IST | Updated on: Oct 03, 2017 08:16 AM IST

جنیوا۔ میانمار کے ایک مرکزی وزیر نے اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے پناہ گزيں کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بتایا ہے کہ بنگلہ دیش سے جو روہنگیا پناہ گزیں میانمار آنا چاہتے ہیں، ان کی سلامتی اور باز آبادکاری کی ذمہ داری حکومت کی ہوگی۔ میانمار کے مرکزی وزیر برائے سماجی بہبود ، راحت رسانی و بازآبادکاری مسٹر وین میاٹ اویا نے  جنیوا میں پناہ گزین کمیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بتایا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح میانمار سے در بدر ہوکر بنگلہ دیش جانے والے روہنگیا پناہ گزینوں کو وطن واپس لانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ واپس آنا چاہتے ہیں ان کی وطن واپسی کی کارروائی جلد ہی شروع کر دی جائے گی اور ان کی شہریت کی ویریفکیشن جانچ کا کام میانمار اور بنگلہ دیش کے درمیان 1993 میں ہونے والے معاہدے کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ جو لوگ میانمار کے پناہ گزینوں کے طور پر تصدیق شدہ ہیں ان کو کسی روکاوٹ کے بغیر قبول کیا جائے گا اور ان کی حفاظت اور باز آبادکاری کی پوری ذمہ داری میانمار حکومت کی ہوگی۔

روہنگیا پناہ گزیں میانمار واپس لوٹ سکتے ہیں: میانمار کے مرکزی وزير

میانمار کے مرکزی وزیر برائے سماجی بہبود ، راحت رسانی و بازآبادکاری مسٹر وین میاٹ اویا نے جنیوا میں پناہ گزین کمیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بتایا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح میانمار سے در بدر ہوکر بنگلہ دیش جانے والے روہنگیا پناہ گزینوں کو وطن واپس لانا ہے۔ : رائٹرز۔

اس سے قبل بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ بنگلہ دیش اور میانمار نے  پانچ لاکھ سے زیادہ روہنگیا پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا پلان تیار کرنے کے لئے ایک روکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز