Live Results Assembly Elections 2018

روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز، اقوام متحدہ کی امدادی کوششیں تیز کرنے کی اپیل

میانمار میں تشدد سے جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کرنے کے پیش نظر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے در بدر ہونے والے لوگوں کی امداد کے لئے کوششیں تیز کردی ہيں۔

Sep 20, 2017 02:58 PM IST | Updated on: Sep 20, 2017 03:10 PM IST

اقوام متحدہ۔  میانمار میں تشدد سے جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کرنے کے پیش نظر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے در بدر ہونے والے لوگوں کی امداد کے لئے کوششیں تیز کردی ہيں۔ اقوام متحدہ کے نیوز سینٹر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سکریٹری جنرل انٹونیو گتیریس نے امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی اپیل کے ساتھ ہی بحران کو حل کرنے کے میانمار کے حکام سے فوری اقدامات کرنے کا اپنا مطالبہ دوہرایا ہے۔ مسٹر انٹونیو گتیریس نے گزشتہ روز جنرل اسمبلی میں اس مسئلے پر اعلی سطح کی بحث کے افتتاحی خطاب میں کہا کہ "میانمار کے جنوبی صوبہ راخین میں  نسلی تشدد اور کشیدگی میں ڈرامائی اضافہ پر ہم سب حیران ہیں۔ نہتے لوگوں پر ظلم و زیادتی، امتیازی سلوک، ظالمانہ تعصب اور پر تشدد جارحیت کا دور جاری رہنے کی وجہ سے چار لاکھ سے زیادہ مجبور افراد در بدر ہوگئے ہيں، جس سے علاقائی استحکام کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے"۔

انہوں نے میانمار کے حکام سے فوری طورپر فوجی مہم بند کرنے ، انسانی امدادی کارکنوں کو بلا رکاوٹ متاثر ین تک رسائی دینے اور بے گھر ہونے والے افراد کو سلامتی اور احترام کے ساتھ اپنے گھروں میں واپس لوٹنے کا حق دینے پر زور دیا۔ انہوں نے میانمار کی حکومت سے روہنگیا آبادی کے مسئلے کو حل کرنے کا بھی مطالبہ کیا جو کافی طویل عرصے سے حل طلب ہے۔ مستقل بین الاقوامی تحقیقاتی مشن برائے میانمار کے چیئر پرسن مرزوقی دارسومان نے جینوا میں اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل سے کہا کہ اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ میانمار میں سنگین انسانی بحران رونما ہوگیا ہے، جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔  انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25 اگست سے اب تک چار لاکھ سے زیادہ افراد میانمار سے بھاگ کر بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہيں اور روہنگیا آبادی کی 200 بستیوں کو مکمل خالی کرکے برباد کردیئے جانے کی اطلاع ہے۔

روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز، اقوام متحدہ کی امدادی کوششیں تیز کرنے کی اپیل

بنگلہ دیش کے تیکناف میں ناف ندی کے راستہ سرحد پار کرتے ہوئے کشتی میں بیٹھے روہنگیا پناہ گزینوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ رائٹرز، فائل فوٹو۔

مسٹر مرزوقی دارسومان نے میانمار کی حکومت سے تحقیقات کاروں اور انسانی امدادی کارکنوں کو ملک میں بلا روکاوٹ رسائی کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ " ہمارے لئے یہ اہم بات ہے کہ مبینہ حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور استحصال کے مقامات کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور متاثرہ لوگوں اور متعلقہ حکام سے بات کرکے صورتحال کا جائزہ لیں"۔ در بدر ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے پیش نظر اقوام متحدہ کی پناہ گزیں ایجنسی (یو این ایچ سی آر) نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہيں، جس میں نو واردوں کو نئے کیمپ میں منتقل کرنا، انہیں مختلف جماعتوں کی طرف سے بنائی گئی عارضی کیمپوں میں لے جانا اور کوکس بازار کے نزدیک کٹوپلونگ کے پاس نئی جگہ پر انہیں بسانا شامل ہے۔

یو این ایچ سی آر کی ترجمان دنیا اسلم خان نے جینوا میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایجنسی کے امدادی عملہ اور پناہ گزینوں نے بتایا کہ بارش کے سبب انہيں زیادہ سردی زکام اور بخار کی تکلیفیں ہورہی ہيں۔ کثیر تعداد بالخصوص چھوٹے بچے بیمار ہوچکے ہيں۔ اس لئے فوری طورپر انہیں حفظان صحت کی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔ ایجنسی کے مطابق پناہ گزینوں کی تعداد چار لاکھ 15 ہزار سے زيادہ ہونے کے پیش نظر انسانی امداد مہیا کرنے کا چیلنج درپیش ہے، جہاں بڑی تعداد میں سخی اور مخیر بنگلہ دیشی شہری انفرادی طورپر امدادی کاموں میں مصروف ہيں ۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز