روہنگیا مسلمانوں کا بحران ہوا سنگین ، میانمار کی سوکی نے اپنا ایلچی بنگلہ دیش بھیجا

Jan 11, 2017 02:37 PM IST | Updated on: Jan 11, 2017 02:37 PM IST

رنگون۔ میانمار کی لیڈر آنگ سان سوکی اعلی سطحی بات چیت کے لئے اپنا ایلچی کل بنگلہ دیش بھیج رہی ہیں کیونکہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بڑھنے کی وجہ سے پچھلے تین ماہ کے دوران 65 ہزار افراد نے میانمار سے بھاگ کر بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے۔ نوبل انعام یافتہ سوکی کی 9 ماہ پرانی انتظامیہ کے سامنے یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس سے نمٹنے کے لئے وہ نائب وزیر خارجہ کو تین روزہ دورے پر ڈھاکہ بھیج رہی ہیں۔

پناہ گزین کی نئی لہر اور میانمار کی بحریہ کی جانب سے ایک بنگلہ دیشی ماہر کو گولی مارنے کی خبر نے دونوں پڑوسیوں کے درمیان ہمیشہ سے تلخ رہے تعلقات کو مزید بگاڑدیا ہے۔ یہ دونوں ہی ملک روہنگیا مسلمانوں کو دوسرے کا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔

روہنگیا مسلمانوں کا بحران ہوا سنگین ، میانمار کی سوکی نے اپنا ایلچی بنگلہ دیش بھیجا

فائل فوٹو

میانمار اپنے مغربی پڑوسی کے ساتھ تعاون سے کتراتا رہا ہے مگر اس مرتبہ اس کا رویہ مختلف ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کے حل کے لئے یہ ضروری ہے۔ روہنگیا باغیوں نے 9 اکتوبر کو میانمار سرحدی چوکیوں پر دھاوا بول کر 9 پولیس والوں کو ہلاک کردیا تھا۔ اس کے جواب میں میانمار نے راکھین ریاست کے مسلح اکثریتی شمالی حصہ میں فوج بھیج دی تھی۔ وہاں کے باشندوں اور پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ فوج کی کارروائی میں لوگوں کو غیر قانونی طریقہ سے موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ من مانے ڈھنگ سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور عورتوں کی آبرو لوٹی گئی ہے۔ جبکہ سوکی حکومت تمام زیادتیوں اور الزامات کو غلط بتا رہی ہے۔

اس دورے کے دوران دونوں پڑوسی ملک باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کریں گے مگر برما کی جانب سے سرحدی سلامتی کا ’پیچیدہ‘ معاملہ اٹھائے جانے کا امکان نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے ’’انسانی امور تعاون‘‘ کے دفتر کا کہنا ہے کہ 9 اکتوبر کے بعد سے تقریباً65 ہزار مزید افراد بنگلہ دیش پہنچے ہیں۔ امورخارجہ کی ڈپٹی ڈائرکٹر ’’آئے ائے سو‘‘ نے اس تعداد کو غلط بتایا ہے اور کہا ہے ہر کوئی جو خود کو برما کا پناہ گزین بتاتا ہے اس کی جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے حکومت کی اس دیرینہ پالیسی کا حوالہ دیا کہ وطن واپسی کی بات چیت بنگلہ دیش میں مقیم صرف ان 2415 افراد کے لئے ہوگی جنہیں میانمار اپنا شہری تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہمیں یہ تصدیق کرنی ہوگی کہ کتنے لوگ وہاں آئے ہیں۔ وہ کہاں سے آئے ہیں مگر ان کی صحیح تصدیق کرنا مشکل ہے‘‘۔

واضح رہے کہ میا نمار روہنگیا مسلمانوں کو سرے سے اپنا شہری ہی تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں حقوق دیتا ہے۔ انہیں کئی ریاستوں کی طرف سے ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز