قطری باشندوں کے مسجد حرام میں داخلے پر پابندی کی افواہیں بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار

Jun 12, 2017 10:26 AM IST | Updated on: Jun 12, 2017 10:26 AM IST

ریاض۔ سعودی عرب سمیت چھ  ممالک کے ذریعہ خلیجی عرب ریاست قطر کے ساتھ اپنے سفارتی رشتے منقطع کر لینے کے بعد مسلم دنیا میں اس معاملہ پر مختلف طرح کے رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف سعودی عرب کے اس اقدام کی حمایت کی جا رہی ہے تو وہیں، دوسری طرف، مسلمانوں کے چند حلقوں کی جانب سے اس کی شدید مذمت بھی کی جا رہی ہے اور اسے لے کر سعودی عرب کے شاہی خاندان کے خلاف سخت تبصرے بھی کئے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے حلیف ملکوں کے اس اقدام کی حمایت اور مخالفت میں ذرائع ابلاغ سمیت سوشل میڈیا پر بھی مسلسل رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے اور طرح طرح کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان میں سے ایک افواہ یہ پھیلائی جانے لگی کہ مکہ مکرمہ کے اندر بیت اللہ شریف میں قطر کے باشندوں کو داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ لیکن سعودی عرب میں حرمین شریفین کے نگراں ادارے نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اس افواہ کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے۔ ادارے نے متعلقہ محکموں کو قطر سمیت دنیا بھر سے آنے والے معتمرین کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کی سختی سے تاکید کی ہے۔ ادارے نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی حکومت نے قطری زائرین کے مسجد حرام میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق، حرمین شریفین کے امور کے نگراں ادارے نے صاف الفاظ میں سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ قطر سمیت کسی بھی ملک سے آنے والے معتمرین کو عمرہ کے مناسک کی ادائیگی کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ قطری باشندوں کے مسجد حرام میں داخلے پر پابندی کی افواہیں قطعا بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطری بھائیوں کے لئے سعودی باشندوں میں گہری قدر ومنزلت ہے۔ نو رمضان المبارک کے بعد اب تک قطرکے 1633 شہری عمرہ کے مناسک ادا کرنے کے بعد بہ خیریت واپس ہوئے ہیں۔

قطری باشندوں کے مسجد حرام میں داخلے پر پابندی کی افواہیں بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پرآنے والی افواہوں میں بتایا گیا تھا کہ قطر کے ساتھ سفارتی بحران کے بعد سعودی حکومت نے قطری شہریوں کے عمرہ کی ادائیگی پر پابندی عاید کردی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ قطری شہری اطمینان کے ساتھ عمرہ کے مناسک ادا کریں۔ دیگر عازمین عمرہ کی طرح انہیں بھی تمام ممکنہ سہولیات اور سروسز فراہم کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ  خلیجی ملکوں میں سفارتی کشیدگی کے فورا بعد ہی  سعودی عرب نے یہ وضاحت کی تھی کہ عمرہ اور حج کے لئے آنے والے قطری شہریوں کی ہر ممکن مدد کے لئے وہ تیار ہے۔ سعودی عرب نے کہا تھا کہ قطر سے عمرہ اور حج کے لئے آنے والوں کو تمام سہولیات دی جائیں گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز