روسی رکن پارلیمنٹ کے بیٹے کو سائبر جرم میں امریکہ میں 27 سال کی جیل

Apr 23, 2017 09:35 PM IST | Updated on: Apr 23, 2017 09:35 PM IST

نيويارك : روس کے ایک رکن پارلیمنٹ کے بیٹے کو امریکہ میں سائبر جرائم کے معاملے میں 27 سال کی قید کی سزا سنائی گئی ہے جسے روس نے غیر قانونی اور انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ امریکہ میں سائبر جرائم کے معاملے میں دی گئی یہ سب سے لمبی سزا ہے. یہاں کی ویسٹرن کورٹ کے جج رچرڈ اے جونز نے روسی رکن پارلیمنٹ ویلري سیلجنیو کے بیٹے رومن سیلجنیو (32) کو یہ سزا دی ہے۔اس معاملے کی امریکی انٹیلی جنس سروس نے 10 سال تک تحقیقات کی تھی۔

سیٹیل کی ایک عدالت نے رومن سیلجنیوکو گزشتہ سال مجرم قرار دیا تھا۔اس پر الزام تھا کہ وہ ایسے کمپیوٹر بازار میں اتارنے کی سازشی کررہا تھا جس کے ذریعے صارفین کے کریڈٹ کارڈ نمبر چرا لیے جاتے تھے۔ اس سے امریکی کمپنیوں کو 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے اکتوبر 2009 سے اکتوبر 2013 تک 500 سے زائد کمپنیوں کے کریڈٹ کارڈ نمبر چرايے اور امریکی ریاست ورجینيا، روس اور یوکرائن کے سرور ٹرانسفر کئے اور بعد میں "كرمنل کورڈنگ ویب سائٹ" کو اطلاعات بیچیں.

روسی رکن پارلیمنٹ کے بیٹے کو سائبر جرم میں امریکہ میں 27 سال کی جیل

رومن نے ایک ہاتھ سے لکھے بیان میں کہا، "یہ سخت سزا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہمارے صدر ولادیمیر پوتن کو پیغامات بھیجنے کا ایک طریقہ ہے. لیکن ولادیمیر، روس یا دیگر ممالک کو پیغام دینے کا یہ طریقہ اچھا نہیں ہے کہ جمہوریت میں انصاف کس طرح ہوتا ہے۔ واشنگٹن واقع روسی سفارت خانے نے فیس بک پر پوسٹ اپنے بیان میں کہا کہ اس کے شہری کو کسی دوسرے ملک میں گرفتار کیا جانا جائز نہیں ہے۔ رومن کو مالدیپ میں سال 2014 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز