اسکولی بچوں کی طرح لڑرہے ہیں ٹرمپ اور کم جونگ: روس

لندن۔ روس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کے مابین لفظی جنگ اسکولی بچوں کی لڑائی جیسی لگ رہی ہے۔

Sep 23, 2017 02:19 PM IST | Updated on: Sep 23, 2017 02:19 PM IST

لندن۔ روس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کے مابین لفظی جنگ اسکولی بچوں کی لڑائی جیسی لگ رہی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ دو عالمی طاقتوں کے لیڈر اسکول کے بچوں کی طرح لڑرہے ہیں ۔ دونوں رہنماؤں کے ذہن گرم ہیں جس کے لئے انہیں ایک پرسکون وقفہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’شمالی کوریا کی نیوکلیائی ہتھیار سازی ناقابل قبول ہے باوجود اس کے کوریائی جزیرہ میں جنگ چھیڑنا بھی صحیح نہیں ہے۔ سیاسی کوشش کے ذریعہ موجودہ بحران سے نپٹاجائے اور یہی اقوام متحده سلامتی کونسل کے عمل کا ایک خصوصی حصہ بھی ہے۔

اس وقت مسٹر ٹرمپ اور مسٹر کم کے درمیان سخت بیان بازی چل رہی ہے۔ دونوں لیڈران ایک  دوسرے پر لفظی حملے کررہے ہیں اور ایک دوسرے کو بددماغ اور بیوقوف تک کہہ دیا ہے۔ جہاں مسٹر کم نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ کی مایوسی سے انہیں یقین ہوگیا ہے کہ شمالی کوریا کے ہتھیاروں کا تجربہ کرنا صحیح ہے وہیں دوسری جانب امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکہ کو اپنی حفاظت کرنی ہے تو اسے شمالی کوریا کو تباہ کرنا ہوگا۔ روس کے وزیر خارجہ نے کہا ’’ ہم چین کے ساتھ منطقی رویہ اختیار کریں گے، نہ کہ جذباتی۔ لیکن جب اسکول کے بچے لڑنا شروع کردیتے ہیں تو انہیں کوئی بھی نہیں روک سکتا‘‘۔

اسکولی بچوں کی طرح لڑرہے ہیں ٹرمپ اور کم جونگ: روس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان: فائل فوٹو۔

روس کے علاوہ جاپان نے بھی مسٹر کم کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کا بیان اور اس کا رویہ اس خطے اور بین الاقوامی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ شمالی کوریا کو خطرناک سمت میں نہیں جانا چاہئے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز