قطر کو مطالبات پر اپنا موقف واضح کرنے کے لئے اڑتالیس گھنٹوں کا اضافی وقت

Jul 03, 2017 01:39 PM IST | Updated on: Jul 03, 2017 01:39 PM IST

ریاض۔ قطر کا سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کرنے والے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں نے قطر کو دہشت گردی کی مدد روکنے سے متعلق پیش کردہ مطالبات اپنا موقف واضح کرنے کے لئے اڑتالیس گھنٹوں کا اضافی وقت دیا ہے۔ اتوار کی نصف شب میں مطالبات کی یہ ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ہے، چنانچہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے دوحہ کو مزید اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ان کے مطالبات کا مثبت انداز میں جواب دے۔ سعودی عرب کی سرکاری ایس پی اے نیوز ایجنسی کے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان کے مطابق، خلیجی بحران میں ثالثی کا رول ادا کرنے والے کویت کے امیر کی درخواست پر دوحہ کو یہ مہلت دی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ امیر کویت الشیخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے قطر کو اپنا موقف واضح کرنے کے لیے مزید 48 گھنٹوں کی مہلت کی درخواست کی تھی جس کے بعد بائیکاٹ کرنے والے ممالک نے دوحہ پر سابقہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد نئی پابندیوں کے نفاذ کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے قطر کو اڑتالیس گھنٹوں کا اضافی وقت دیا ہے۔ کویت کا کہنا ہے کہ اگلے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران قطر عرب ممالک کے پیش کردہ مطالبات پر اپنا موقف واضح کرے گا کہ آیا اسے ان مطالبات پر کس حد تک عمل درآمد کرنا ہے۔

قطر کو مطالبات پر اپنا موقف واضح کرنے کے لئے اڑتالیس گھنٹوں کا اضافی وقت

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حمد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا ایک منظر: تصویر، رائٹرز

خیال رہے کہ دس روز قبل سعودی عرب کی قیادت میں چار عرب ملکوں کی طرف سے قطر کو دی گئی دس روزہ ڈیڈ لائن ختم ہوگئی تھی۔ قبل ازیں قطری وزیرخارجہ نے عرب ملکوں کی طرف سے پیش کردہ مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بائیکاٹ کرنے والے ملکوں سے مشروط مذاکرات ممکن ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز