سعودی عرب یمنی خانہ جنگی میں ’دہشت گردوں‘ کی حمایت کر رہا ہے: ایران

ایران نے سعودی عرب پر الزام لگایا ہے کہ وہ یمنی خانہ جنگی میں ’دہشت گردوں‘ کی حمایت کر رہا ہے۔

Aug 31, 2017 12:23 PM IST | Updated on: Aug 31, 2017 12:23 PM IST

دوبئی۔  یمن کے دار الحکومت صنعاء میں کل جہاں ایک چیک پوائنٹ کے نزدیک ہونے والے فضائی حملے میں دو فوجیوں سمیت سات لوگوں کی موت ہوگئی ۔ وہیں ایران نے سعودی عرب پر الزام لگایا ہے کہ وہ یمنی خانہ جنگی میں ’دہشت گردوں‘ کی حمایت کر رہا ہے۔سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی فوج نے ابھی تک اس حملے پر کوئي تبصرہ نہیں کیا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ صنعاء سے 10 کلو میٹر دور ضلع مساجد میں جنگی طیاروں نے ایک گیس اسٹیشن کے نزدیک بم گرا دیا، جس کی زد میں ایک گاڑی تباہ ہوگئی ، جس میں سات لوگوں کی موت ہوئی۔ اس بیچ انسانی حقوق کے اداروں نے یمن میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی غیرجانبدارانہ چھان بین کا مطالبہ کر دیا ہے۔

سعودی عرب یمنی خانہ جنگی میں ’دہشت گردوں‘ کی حمایت کر رہا ہے: ایران

ایرانی صدر حسن روحانی: فائل فوٹو

رائٹر نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یمن میں جاری پراکسی جنگ میں ’دہشت گردوں‘ کی حمایت کر رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سعودی اتحادی افواج صنعاء اور یمن کے شمالی حصوں سے مسلح حوثی باغیوں کو ہٹانے کے لئے فضائی حملے  کررہی ہيں۔ اتحادی فوج نے مارچ 2015 میں یمن کی خانہ جنگی ختم کرنے کے لئے مہم شروع کی تھی۔ خانہ جنگی شروع ہونے اور اتحادی فوج کی مداخلت کے بعد سے کم از کم 10000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یمن جنگ میں سعودی عسکری اتحاد کی شرکت سے اس عرب ملک کے حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ ایران سعودی عرب پر پہلے بھی اس طرح کے الزامات عائد کرتا رہا ہے جبکہ دوسری طرف ریاض حکومت کا اصرار ہے کہ علاقائی سطح پر دہشت گردی میں اضافے کی ذمہ دار ایرانی حکومت ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر جاری ہونے والے ایک بیان میں روحانی نے کہا ہے کہ ’’سعودی عرب کی یمن میں مداخلت اور یمن اور شام میں دہشت گردوں کی حمایت دراصل تہران اور ریاض کے باہمی تعلقات معمول پر لانے میں بڑی رکاوٹ ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو یمن میں ایسی کارروائیوں کو ترک کر دینا چاہیے۔ ناقدین کے مطابق سعودی عرب اور ایران دونوں ہی خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوششوں میں ہیں۔ اس لیے یہ دونوں ممالک مبینہ طور پر یمن، شام، عراق اور لبنان میں فعال اپنے اپنے حامی عسکری گروہوں کو معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز