سعودی عرب : اب نکاح نامے میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کی شق کا اضافہ جلد متوقع

Oct 01, 2017 01:59 PM IST | Updated on: Oct 01, 2017 01:59 PM IST

ریاض : سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد اب نکاح نامے میں ایک نئی شق کا اضافہ متوقع ہے۔اس وقت نکاح نامے میں تین شقیں شامل ہیں۔ان میں خواتین کی ایک بڑی شرط یہ شامل ہے کہ خاوند اپنی نوبیا ہتا دلھن کو الگ تھلگ گھر مہیا کرے گا جس میں صرف اسی کا اختیار ہوگا۔دوسری شق یہ ہے کہ اگر خاتون زیر تعلیم ہے تو خاوند اس کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دے گا۔نکاح نامے میں تیسری شرط یہ تحریر ہے کہ اگر خاتون کام (گھر سے باہر ملازمت) کرنا چاہتی ہے تو اس کو اس سے روکا نہیں جائے گا۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے گذشتہ منگل کے روز جاری کردہ فرمان کے تحت سعودی خواتین کو اب ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جائیں گے اور وہ آیندہ سال جون سے کاریں چلا سکیں گی۔ اس فرمان کے بعد اب نکاح نامے میں اسی ہفتے ایک نئی شق کے اضافے کا امکان ہے ۔ اس کے تحت انھیں خاوند کی جانب سے کاریں رکھنے اور چلانے کی اجازت دی جائے گی۔اسی ہفتے اس مجوزہ شق کے اضافے والے ایک نکاح نامے کی سعودی عرب میں تشہیر بھی کی گئی ہے اور اس میں یہ کہا گیا ہے کہ خاوند بیوی کے کار چلانے کے فیصلے کا احترام کرے گا۔

سعودی عرب : اب نکاح نامے میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کی شق کا اضافہ جلد متوقع

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق البریدہ شہر میں جنرل کورٹ کے صدر شیخ ابراہیم الحسنی نے کا اپنے طور پر کہنا ہے کہ خواتین کو کاریں چلانے کی شرط بھی نکاح نامے میں مذکورہ تینوں شرائط کی طرح شامل کی جانی چاہیے۔یعنی مکان ، تعلیم کی تکمیل اور کام کی اجازت کی طرح انھیں کاریں چلانے کی اجازت دینے کی شق کا بھی نکاح نامے میں اضافہ کردیا جائے۔

واضح رہے کہ سعودی خواتین کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دینے سے متعلق شق نکاح نامے میں بڑے بحث ومباحثے کے بعد شامل کی گئی تھی اور حکام اس حوالے سے بڑے متردد تھے۔ پچاس سال قبل سعودی عرب میں لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولے گئے تھے تب کم عمری میں شادی کرنے والی خواتین کو اپنی تعلیم کی تکمیل میں بڑی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تآنکہ حکومت نے ایک فیصلہ نافذ کیا تھا اور تعلیم کی شق نکاح نامے میں شامل کردی گئی تھی۔

بعد میں خواتین کو کام یا ملازمت کی اجازت دینے کی شق بھی شامل کردی گئی تھی کیونکہ بعض لوگ مختلف وجوہ کی بنا پر خواتین کو گھر سے باہر کام کرنے کی اجازت دینے کے مخالف تھے مگر نکاح نامے میں اس شق کے اضافے کے بعد مرد حضرات اپنی بیویوں کے کام کے حق کو تسلیم کرنے لگ گئے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز