غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور دہشت گردی کی حمایت کی وجہ سے قطر کا بائیکاٹ کیا گیا ہے، ناکہ بندی نہیں: عرب ممالک

Sep 15, 2017 04:46 PM IST | Updated on: Sep 15, 2017 04:46 PM IST

جنیوا : سعودی عرب ، مصر ،متحدہ عرب امارات اور بحرین نے واضح کیا ہے کہ قطر کے خلاف کیے گئے اقدامات بائیکاٹ ہیں اور وہ کسی بھی طرح ناکا بندی کے زمرے میں نہیں آتے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دہشت گردی مخالف ان چاروں ممالک نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ قطر کے اجتماعی بائیکاٹ کا فیصلہ اس خلیجی ریاست کی غیر ذمے دارانہ پالیسیوں ، دہشت گردی کی حمایت اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کی سرگرمیوں سے پہنچنے والے نقصانات کے بعد کیا گیا تھا۔

جنیوا میں اقوام متحدہ میں تعینات متحدہ عرب امارات کے مستقل مندوب عبید سالم الزعبی نے چاروں عرب ممالک کے موقف کی وضاحت کی ہے اور انھوں نے انسانی حقوق کونسل کے چھتیسویں اجلاس میں’’ یک طرفہ معاندانہ تعزیری اقدامات اور انسانی حقوق‘‘ کے موضوع پر مباحثے کے دوران میں قطری مندوب کی تقریر کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے۔الزعبی نے کہا کہ چاروں ممالک اس پینل کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہیں اور تعزیری اقدامات کے نفاذ کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور دہشت گردی کی حمایت کی وجہ سے قطر کا بائیکاٹ کیا گیا ہے، ناکہ بندی نہیں: عرب ممالک

انھوں نے کہا کہ قطری وفد کے بیان اور مشاورتی کمیٹی کے رکن ژاں زیگلر نے جس کی نشان دہی کی ہے ،اس کے ردعمل میں دہشت گردی مخالف عرب ریاستیں اس موقف کا اعادہ کرتی ہیں کہ ’’ قطر کے خلاف کیے گئے اقدامات قانونی ہیں۔قطر کی جانب سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے لیے حمایت ، انھیں مالی رقوم مہیا کرنے اور پناہ دینے کے غیر ذمے دارانہ اقدامات کے بعد خلیجی عرب ممالک قطر کے بائیکاٹ کے فیصلے پر مجبور ہوگئے تھے‘‘۔ الزعبی نے کہا کہ اگر قطری نمائندے کے بیان کے مطابق قطری عوام کو بائیکاٹ سے نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ متاثر ہورہے ہیں تو پھر قطری مندوب دوحہ سے اپنے سینیر حکام کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کی کیا وضاحت کریں گے جس میں انھوں نے کہا کہ وہ سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد سے ہرگز بھی متاثر نہیں ہوئے ہیں اور ریاست معمول کے مطابق کام کررہی ہے۔

اماراتی مندوب کا کہنا تھا کہ اس طرح کے تضادات قطر کی دوغلی تقریر کی نشان دہی کرتے ہیں۔ایک قطری عوام کے لیے ہوتی ہے اور ایک بین الاقوامی سطح کے لیے ہوتی ہے تاکہ بحران کے حقیقی سبب پر چڑھی نقاب برقرار رہے اور وہ قطر کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت اور دہشت گرد تنظیموں کو مالی رقوم مہیا کرنا ہے۔انھوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ قطری وفد نے اس معاملہ کو ایک ہی دن میں دو مرتبہ انسانی حقوق کونسل کے مباحثے کے دوران میں اٹھایا ہے۔اس سے اس امر کا بھی پتا چلتا ہے کہ قطر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے اور وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز