سعودی عرب : بدعنوانی کے الزام میں گرفتار بیشتر افراد رہائی کیلئے سمجھوتہ پر تیار، 159 افراد فی الحال زیر حراست

Dec 06, 2017 11:21 PM IST | Updated on: Dec 06, 2017 11:21 PM IST

ریاض: سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود بن المبارک کا کہنا ہے کہ کرپشن کے الزامات میں گرفتار افراد میں سے زیادہ تر نے معافی کے بدلے سمجھوتے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود بن المبارک نےاپنے بیان میں کہا ہے کہ کرپشن کے الزامات میں گرفتار افراد میں سے زیادہ تر نے قانونی کارروائی سے بچنے کےلئے سمجھوتہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

بیان کے مطابق کرپشن کے الزامات میں حراست میں لیے گئے بیشتر افراد نے اپنے اپنے معاملے کے تصفیے سے اتفاق کیا ہے اور اب ضروری قانونی کارروائی کی تکمیل کی جارہی ہے ۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ پبلک پراسیکیوشن نے موصول ہونے والی فائلوں کا متعلقہ قانونی طریق کار کے مطابق جائزہ لیا تھا اور ان افراد میں سے ایک محدود تعداد کو زیر حراست رکھنے کا فیصلہ کیا اور باقی کو رہا کردیا تھا۔اب تک جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور جن کے بنک کھاتے منجمد کیے گئے ہیں،ان کی تعداد 376 ہے ۔

سعودی عرب : بدعنوانی کے الزام میں گرفتار بیشتر افراد رہائی کیلئے سمجھوتہ پر تیار، 159 افراد فی الحال زیر حراست

سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود بن المبارک

گرفتار افراد سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں 320 افراد کو طلب کیا گیا تھا، کمیشن نے ان میں سے متعدد افراد کے کیس سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر اٹارنی جنرل کو بھیج دیے تھے، اس وقت 159 افراد زیرِ حراست ہیں۔ جن لوگوں نے الزامات یا سمجھوتے سے انکار کیا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں نئی انسداد بدعنوانی کمیٹی نے 4 نومبر کو اپنی تشکیل کے چند ہی گھنٹوں پر 11 شہزادوں، چار موجودہ اور ’درجنوں‘ سابق وزرا کو گرفتار کر لیا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں معروف سعودی کاروباری شخصیت شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل تھے۔ چند روز قبل گرفتار کئے گئے ایک شہزادے کو ایک ارب ڈالر ادا کرنے کے بعد چھوڑا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز