سعودی عرب : بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار شہزادہ ولید بن طلال کو 6 ارب ڈالرکے بدلے رہائی کی پیشکش

سعودی عرب کے حکام نے کرپشن کیس میں گرفتار دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے عرب شہزادے طلال بن ولید کو 6 ارب امریکی ڈالروںکے بدلے آزادی کی پیش کش کی ہے۔

Dec 24, 2017 12:01 PM IST | Updated on: Dec 24, 2017 05:58 PM IST

ریاض: سعودی عرب کے حکام نے کرپشن کیس میں گرفتار دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے عرب شہزادے طلال بن ولید کو 6 ارب امریکی ڈالروںکے بدلے آزادی کی پیش کش کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کرپشن کیس سے جڑے سعودی عرب کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومتی حکام نے شہزادہ طلال بن ولید سے رہائی کے بدلے پیسے طلب کیے ہیں۔ سعودی حکومت نے شہزادے کو ایسے اشارے دیے ہیں کہ وہ نقد رقم دے کر خود کو آزاد کرکے اپنے 25 سالہ کاروبار کو ختم ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے والے سعودی شہزادے کا شمار دنیا کی ابتدائی 50 امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے ان کے کل اثاثہ جات کی مالیت 19ارب ڈالر ہے۔ شہزادے نے نامور کمپنیوں جیسے ایپل، سٹی گروپ وغیرہ میں سرمایہ کاری کررکھی ہے۔

سعودی عرب : بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار شہزادہ ولید بن طلال کو 6 ارب ڈالرکے بدلے رہائی کی پیشکش

سعودی عرب کے شہزادے الولید بن طلال: فائل فوٹو۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے گزشتہ ماہ کے آغاز میں کرپشن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 11 شہزادوں سمیت درجنوں افراد کو گرفتار کیا تھا اور ان میں شہزادہ طلال بن ولید بھی شامل تھے۔ وہ 5 نومبر سے سعودی حکومت کی قید میں ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز