سعودی عرب کے نائب ولی عہد محمد بن سلمان ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکہ کے درے پر

شہزادہ محمد بن سلمان اپنے ملک میں اقتصادی اصلاحات کے ایک بڑے منصوبے کے تحت سعودی عرب میں زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی کوششیں کر رہے ہیں اور وہ پیر کے روز امریکا روانہ تو ہو گئے ہیں ۔

Mar 13, 2017 05:22 PM IST | Updated on: Mar 13, 2017 05:23 PM IST

ریاض : سعودی عرب کے  نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکا روانہ ہو گئے ہیں۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے ان سے ملاقات کرنے والے پہلے اعلیٰ ترین سعودی رہنما ہوں گے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان اپنے ملک میں اقتصادی اصلاحات کے ایک بڑے منصوبے کے تحت سعودی عرب میں زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی کوششیں کر رہے ہیں اور وہ پیر کے روز امریکا روانہ تو ہو گئے ہیں  ۔ تاہم ان کا یہ دورہ سرکاری طور پر 16  مارچ سے شروع ہو گا۔

سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے نے لکھا ہے کہ اس دورے کے دوران ملکی نائب ولی عہد کی کوشش ہو گی کہ امریکی رہنماؤں سے ان کی بات چیت کے دوران توجہ دوطرفہ روابط کو مزید بہتر بنانے اور علاقائی معاملات سے متعلق مشترکہ مفادات پر مرکوز رہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نائب ولی عہد ہونے کے علاوہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے بیٹے اور ملکی وزیر دفاع بھی ہیں تاہم سعودی عرب کی اس تیسری اہم ترین شخصیت کی توجہ زیادہ تر اقتصادی امور پر مرکوز رہتی ہے۔

سعودی عرب کے نائب ولی عہد محمد بن سلمان ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکہ کے درے پر

اسی سعودی شہزادے نے گزشتہ برس ’وژن 2030ء‘ کے نام سے وسیع تر سماجی اور اقتصادی اصلاحات کے اس پروگرام کی ابتدا کی تھی، جس کے تحت اس خلیجی ریاست کی اب تک تیل کی برآمد پر انحصار کرنے والی معیشت میں تنوع پیدا کیا جانا ہے۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ واشنگٹن اور ریاض کے باہمی تعلقات عشروں پرانے ہیں، جن کی بنیاد سعودی تیل کے بدلے اس ریاست کو مہیا کی جانے والی قومی سلامتی کی امریکی ضمانتوں پر ہے۔ تاہم ان روابط میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے آٹھ سالہ دور صدارت میں وہ گرمجوشی دیکھنے میں نہیں آئی تھی، جو اس سے پہلے تک پائی جاتی تھی۔

Loading...

اس کا ایک اہم سبب سعودی حکمرانوں میں پایا جانے والا یہ احساس بھی تھا کہ باراک اوباما امریکا کے شام کی جنگ میں شامل ہونے سے ہچکچاتے رہے تھے اور ان کا جھکاؤ کسی حد تک سعودی عرب کے علاقائی حریف ملک ایران کی طرف تھا، جس کے ساتھ واشنگٹن نے اوباما کے دور صدارت میں تہران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام سے متعلق معاہدہ بھی کر لیا تھا۔

 

 

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز