سعودی عرب میں عید میلاد النبی کی تعطیل کی خبر افواہ ثابت ، نہ چھٹی تھی اور نہ ہی کسی قسم کی تقریبات کا اہتمام

Nov 30, 2017 09:49 PM IST | Updated on: Dec 01, 2017 11:32 AM IST

ریاض : سعودی عرب میں آج 12 ربیع الاول ہے ۔ یعنی عید میلاد النبی کا دن ، تاہم وہاں نہ تو آج چھٹی تھی اور نہ ہی کسی قسم کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ خیال رہے کہ کچھ دنوں قبل ایک خبر گردش کررہی تھی ، جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ سعودی حکومت نے عید میلاد النبی کی تعطیل کا اعلان کیا ہے ۔ خبر میں دعوی کیا گیا تھا کہ 12 ربیع الاول کو سعودی عرب میں سرکاری دفاتر کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ ادارے بھی بند رہیں گے اور عید میلاد النبی کی مناسبت سے پروگراموں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق آج وہاں 12 ربیع الاول ہے اور وہاں نہ تو تعطیل ہے اور نہ ہی عید میلاد النبی کی مناسبت سے کسی قسم کی تقریبات یا پروگرام کا اہتمام کیا گیا ہے۔ بلکہ مسجد نبوی میں مختلف سیکورٹی فورسز کے ذریعے نہایت ہی سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ تقریباً سارے ادارے جو کہ مسجد نبوی میں انتظامی امور سر انجام دیتے ہیں، ان کی ہفتہ واری چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئی ہیں اور اضافی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں تاکہ اس موقع پر عید میلاد النبی منانے والوں سے صحیح طور پر نمٹا جا سکے اور کوئی ناخوشگوار ماحول پیدا نہ ہونے پائے۔

سعودی عرب میں عید میلاد النبی کی تعطیل کی خبر افواہ ثابت ، نہ چھٹی تھی اور نہ ہی کسی قسم کی تقریبات کا اہتمام

مسجد نبوی میں مختلف سیکورٹی فورسز کے ذریعے نہایت ہی سخت انتظامات کئے گئےتھے۔

مدینہ میں واقع عالمی شہرت یافتہ دینی دانش گاہ جامعہ اسلامیہ ( مدینہ یونیورسیٹی) میں زیر تعلیم سیف الرحمان سلفی نے فیس بک چیٹ پر نیوز ۱۸، اردو کو بتایا کہ سعودی عرب کے بارے میں اس طرح کی بے بنیاد خبروں کو ہوا دے کر اسے بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے عرب ممالک میں سعودی حکومت وہ واحد حکومت ہے جس کی اساس قرآن و حدیث کی تعلیمات پر ہے ۔ یہاں کتاب و سنت پر مبنی شرعی قوانین  نافذ ہیں اور ان پر مکمل طریقہ سے عمل آوری ہوتی ہے۔ چونکہ عید میلاد النبی کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، اس لئے کتاب وسنت پر مضبوطی سے گامزن اس ملک میں میلاد کی چھٹی دینے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈے  اور افواہیں ہیں جن کی ہم سختی کے ساتھ مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افواہیں اور غلط خبریں پھیلانے والوں کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ کیا وہ صحافتی اصولوں اور تقاضوں کے ساتھ کھلواڑ تو نہیں کر رہے ہیں۔

وہیں، مدینہ یونیورسیٹی سے فارغ  مولانا محمد اجمل مدنی سوالیہ انداز میں کہتے ہیں کہ آخر، سعودی عرب کے خلاف ہی اتنی زیادہ افواہیں کیوں اڑائی جاتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی ثبوتوں کے ساتھ ان کا رد کرے تب تو درست ہے لیکن بے سر پیر کی اس طرح کی افواہیں پھیلانا اور جھوٹی خبریں شائع کرنا کہاں کی ایمانداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا جھوٹی باتیں گڑھنے اور اسے پھیلانے کو ہی صحافت کہتے ہیں۔ خیال رہے کہ مولانا اجمل مدنی ان دنوں مالیگاوں میں واقع معروف دینی ادارہ جامعہ محمدیہ منصورہ میں درس وتدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز